حیاتِ بقاپوری — Page 120
حیات بقا پوری 120 ہے۔جس کے معنے آپ کے خیال اور آپ کے علم و عقل کے مطابق یہ ہوئے کہ کسی طرح کا نمازی ہو خواہ نفل پڑھے یا فرض بیمار ہو یا تندرست۔مدرک فی الرکوع ہو یا نہ۔اُس کی نماز بغیر احمد پڑھنے اور بغیر مسجد کے نہیں ہوتی۔حالانکہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ نوافل گھر میں پڑھنے چاہئیں۔اور مدرک فی الرکوع کی نماز بغیر الحمد کے ہو جاتی ہے۔اصل بات کیا ہے؟:۔اب میں آپ کو اصل حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔اور بتلاتا ہوں کہ آپ کو غلطی لگی ہے کہ قواعد تحویہ کو آپ کلیہ اور یقین یہ سمجھتے ہیں۔حالانکہ وہ اکثر یہ اور خلیہ ہوتے ہیں۔للاکثر حكم الكل۔القليل كا لمعدوم - اُن کا مشہور مقولہ اس پر شاہد ہے۔اور دوسری غلط فہمی آپ کو اس حدیث لا نبی بعدی کے سمجھنے میں یہ ہوئی ہے کہ آپ کو معلوم نہیں کہ بعض اوقات مثبت منفی بھی امور اضافیہ میں سے ہو جاتے ہیں۔جب وہ اضافت الگ کر لی جائے وہ حکم منفی منفی نہیں رہتا۔مثلاً قالو الاضير - جو ساحران موسیٰ نے فرعون سے کہا تھا تو باضافت انا الى ربنا لمنقلبون تھا۔ورنہ تکلیف اظهر من الشمس ہے۔پس یہی حال لا نبی بعدی کا سمجھ لو۔( یعنی نبوت کی نفی خاتم النبیین کے مقابل پر ہر صاحب شریعت یا براہ راست نبوت کی ہے نہ مطلق نبوت کی)۔نیز یہ بات قرآن شریف اور حدیثوں میں بھی پائی جاتی ہے۔کہ ایک حکم عام دیا گیا ہے، اور اس میں سے کسی فرد کو خاص طور پر علیحدہ رکھ لیا جاتا ہے۔اور وہ فرد اس کی عمومیت میں کوئی نقص نہیں لاتا۔خاص کر علم صرف و نحو میں تو لفظ شاذونا در رکھ کر ایسا بھی کر دیتے ہیں۔اور ایسے حکم کو اصول فقہ میں خص عنه البعض سے تعبیر کرتے ہیں۔جیسا کہ حدیث لا صلوۃ لمن لم يقرء بفاتحة الكتاب میں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے نفی عام نماز کی کردی۔پھر دوسری جگہ من ادرک رکعته من الصلوة فقد ادرك فرماکر مدرک فی الرکوع کو رخصت دے دی اور اُسے حکم عام سے بخصوصیت باہر رکھ لیا۔اب جو شخص حديث لا صلوة لمن لم يقرء بفاتحة الكتاب اور لا صلوة لجار المسجد الافى المسجد كوبی مد نظر رکھے اور حدیث من ادرک الركعة من الصلوة فقد ادرك الصلوۃ (ابوداؤد) اور خیر صلوة المرء في بيته الا المكتوبة كي طرف نظر تک نہ کرے اور یہ یقین کرلے کہ چونکہ نبی کریم مسلم نے ہر ایک طرح کی نماز کی نفی کر دی ہے۔اس واسطے نوافل کے لئے مسجد میں جانا اور مدرک فی الرکوع کے لئے الحمد پڑھنا ضروری ہے۔تو یہ اس کی سراسر بے انصافی ہو گی۔کیونکہ اس وقت وہ شخص نبی کریم کے قول من ادرک الرکعۃ اور خیر صلوۃ المرء کی تکذیب کر رہا ہے۔اور یہ نہیں سمجھتا کہ لا صلوۃ کہتے وقت نبی کریم صلعم کا منشاء نوافل اور مدرک الرکوع کے بغیر تھا۔پس یہی حال