حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 117 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 117

حیات بقاپوری 117 الحمد لله الذى جعل عيسى خاتمًا وعَلمًا على انبياء بنى اسرائيل غضبا على اليهود والصلوة والسلام على محمدن الذي صار خاتمًا و رحمة للعالمين فضلاً من الله الودود۔وعلى اله و مسيحه الذى ثبت بنبوته فضل خاتمه وكان صمصاما لا شياع الجحود۔فمرحباً للمميزين في الخاتمين حافظين للحدود اما بعد حکیم صاحب! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکانت میں نے آپ کے جواب کی طرف اس واسطے جلد توجہ نہ کی کہ آپ کا یہ پر چہ ان دلائل بے معنی سے مملو تھا، جن دلائل کو غیر احمدی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں پیش کر کے بار ہا جواب لے چکے ہیں۔مگر آج ۱۲ جنوری غلام ربانی کے کہنے سے جواب دینا از سر نو ضروری سمجھا گیا۔لہذا التمس ہوں کہ آپ نے بڑا از در اس بات پر دیا ہے کہ اگر مسیح موعود کو ہی مانا جائے، تو آیت خاتم انہین اور حدیث لا نبی بعدی اور لم يبق من النبوة نبی إلا المبشرات کی نفی کرنی پڑتی ہے۔اس کے واسطے بجائے اس کے کہ آپ ان حدیثوں میں جن میں مسیح موعود کو نی اللہ کہا گیا ہے تطبیق کرتے ، الٹا سرے سے مسیح موعود کی نبوت کی ہی نفی کر کے ان احادیث کے مکذب ٹھہرے جن میں مسیح موعود کو نبی کہا گیا ہے۔اس واسطے اب میں پہلے آپ کی پیش کردہ حدیثوں اور آیت قرآنی پر مفصل بحث کرتا ہوں۔کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کا وہ منشاء ان سے ہر گز ہر گز نہیں جو آپ سمجھے ہیں۔اور پھر آپ کی دوسری عبارت کا مجمل و کافی جواب عرض کروں گا۔وباللہ التوفیق نبی کی تعریف از روئے قرآن شریف و حدیث :- پہلے میں یہ بتاتا ہوں کہ نبوت کیا چیز ہے۔یعنی کسی شخص کو قرآن کریم اور امت مرحومہ کی اصطلاح میں نبی کہتے ہیں۔سنئے قوله تعالى رفيع الدرجات ذو العرش يلقى الروح من امره على من يشاء من عباده لينذر يوم التلاق (۱۶:۴۰)۔اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کی تعریف بیان فرمائی ہے کہ کسی بندے پر خدا تعالیٰ کا کلام اس غرض سے اُترتا ہے کہ تالوگوں کی طرف مامور اور نذیر کی حیثیت سے آوے۔دوسری آیت میں اس کلام کو غیب کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔قولہ تعالیٰ: فلا يظهر على غيبه احداً۔الا من ارتضى من رسول (۷۲ ۲۷۔۲۸) یعنی خدا تعالیٰ اپنے غیب پر کسی کو پوری قوت اور غلبہ نہیں بخشا بجز اس شخص کے جو اُس کا برگزیدہ رسول ہے۔پس قرآن کریم کی اصطلاح میں نبی اور رسول اُس شخص کو کہتے ہیں جس پر بکثرت