حیاتِ بقاپوری — Page 116
حیات بقاپوری 116 عقیدہ نہیں لکھا۔آپ ( مرزا صاحب) کا عقیدہ تو یہ تھا کہ عیسی علیہ السلام اولوالعزم نبیوں میں سے تھے۔یہ تو عیسائیوں کو کہا ہے کہ تم تو مسیح کو ایسا اور ایسا لکھتے ہو۔جب یہ حوالہ انسپکٹر صاحب نے دیکھا تو مولوی صاحب کو کہنے لگے کہ افسوس ! یہ تو عیسائیوں کا عقیدہ بیان کر رہے ہیں اور آپ خواہ مخواہ مرزا صاحب کی طرف منسوب کرتے ہیں۔پھر میں نے کہا کہ سُرخی کی چھینٹوں کے متعلق آپ کو کیا اعتراض ہے؟ انسپکٹر صاحب نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔میں نے کہا جس طرح ایک جنگ کے دوران میں نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں میں سے پانی نکلنا شروع ہوا۔جس سے سارا اسلامی لشکر سیراب ہو گیا۔انسپکٹر صاحب نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ کیا یہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے؟ مولوی صاحب نے کہا کہ ہاں صحیح بخاری میں آیا ہے، اور میں اس کو صحیح مانتا ہوں۔انسپکٹر صاحب نے کہا اگر تم انگلیوں میں سے پانی نکلنے کوصحیح سمجھتے ہو تو سرخی کے چھینٹے بھی صحیح ہیں۔کیونکہ دونوں باتیں ایک ہی جیسی ہیں۔۷۔نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن دنوں میں راولپنڈی میں تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت پر اور آپ کے بعد خلافت پر حکیم شاہ نواز صاحب سے میرا تحریری مباحثہ ہوا۔فریقین کے چار چار پرچے نکلے۔اور جب میرا پانچواں پرچہ حکیم صاحب کی خدمت میں گیا، تو اس کا جواب انہوں نے نہ بھیجا۔آخر پانچ چھ ماہ کے بعد اس پرچے کو رفاہ عام کے لئے رسالہ حمید الا ذبان ما مئی 1914ء میں شائع کیا گیا جو مندرجہ ذیل ہے:۔نبوت مسیح موعود پر بحث از روئے قرآن مجید و احادیث معقول از تعمید الاذہان بابت مادی ۱۹۱۲ء) مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے اثنائے بحث میں جو آخری تحریر حکیم محمد شاہ نواز صاحب راولپنڈی کو بھیجی وہ یہ ہے امید ہے کہ بہت سے شبہات و اوہام کے ازالہ کا موجب ہوگی (ایڈیٹر)