حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 103 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 103

حیات بقاپوری 103 کریں۔میں نے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں کئی مہدی ہونے والے تھے۔ان میں سے حضرت فاطمہ کی اولاد میں سے بھی مہدی ہوئے۔چنانچہ حضرت امام حسن حسین رضی اللہ عنہا بھی اپنے وقت کے مہدی ہوئے ہیں۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء راشدین کو مہدی فرمایا۔لیکن امام مہدی جس کا ماننا تمام مومنوں پر فرض ہے وہ ایک ہی ہے۔جو مغلوں میں سے ہوگا اور وہ دعویٰ بھی کرے گا۔مولوی صاحب نے یہ خیال کر کے کہ جس طرح اُن کے پاس امام کا اور اس کے دعوی کرنے کا ثبوت نہیں ہے اس طرح ہمارے پاس بھی کوئی ثبوت نہیں ہوگا۔انہوں نے اس بات پر بہت زور دیا کہ کوئی حدیث دکھاؤ۔جس میں قوم مغل میں سے امام مہدی کا آنا لکھا ہو اور اس کا ماننا ضروری قرار دیا گیا ہو۔میں نے سب کو پیار محبت سے خاموش کر کے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔اور کہا میرے بھائیو اور برخوردار و شعو ! اور مولوی صاحب میرے کہنے پر مشکوۃ شریف اندر سے لے آئے۔میں نے اُس میں سے مندرجہ ذیل حدیث پڑھ کر اس کا ترجمہ اور تشریح کر کے اُن کو سمجھایا۔الحمدللہ کہ بہت ہی اچھا اثر ہوا۔حديث عن على رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يخرج رجل من وراء النهر يقال له حارث حرّاث۔على مقدمته رجل يقال له منصور يوطى او يُمكن لال محمد كما مكنت قريش لرسول الله صلى الله عليه وسلم وجب على كل مومن نصره، قال او اجابته (ابوداؤد) ترجمہ : حضرت علی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص امام مہدی ہونے کا دعوی کرے گا۔اور وہ ماوراء النہر ملک فارس سے ہو گا۔لوگ اُسے جٹ زمیندار کہیں گے۔اُس کے لشکر یعنی تا بعد اروں میں سے ایک ایسا عظیم الشان مشخص ہوگا کہ لوگ کہیں گے کہ یہ مدعی اُس کی مدد لے رہا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ جو مد ھی امامت ہے وہ محمدیوں کے پاؤں زمین میں مضبوط کر دے گا۔یعنی وہ اسلام کی مدد کریگا جس طرح قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی۔پھر فرمایا سب مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس کے دعوی کو مانیں اور اسکی اشاعت اسلام میں مدد کریں۔۲۴۔اپنے ایمان کا مدار علماء پر نہیں رکھنا چاہیے اسی طرح ایک واقعہ 1990ء کا ہے۔جن دنوں میں نے بیعت کی تھی۔میرے ماموں صاحب جو میرے