حیاتِ بقاپوری — Page 104
حیات بقاپوری 104 نسر بھی تھے۔ایک دن کہنے لگے کہ تم مجھے احمدیت کی تبلیغ نہ کیا کرو۔جب تک ہمارے حنفی علماء مرزا صاحب کو نہ مان لیں میں نہیں مانوں گا۔ہر چند سمجھایا کہ کسی نبی اور امام مجد کو عمو م زمانہ کے بڑے بڑے علماء نے نہیں مانا۔بلکہ مخالفت کی اور اہل اللہ کو تکلیف پہنچائیں۔بلکہ متکلمین علماء نے اسلام کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔دین اسلام کی اشاعت اور مدد صوفیاء نے کی ہے۔اور یہ آپ کے علماء، بڑے بڑے بزرگوں کی مخالفت کرتے رہے۔پہلے تو ماموں صاحب غصہ میں آکر کہنے لگے۔چُپ کر بے ادب ! علماء کی تو شان میں یہ آیا ہے، کہ میری اُمت کے علماء نبیوں کی مانند ہوں گے۔میں نے کہا ماموں جی غصہ نہ ہوں بلکہ سمجھنے کی کوشش کریں۔میں آپ کا خیر خواہ بچہ ہوں۔آپ ہی کل مولوی غلام قادر کے متعلق جو احناف کا بڑا مولوی ہے کہہ رہے تھے کہ حفیوں میں بڑے پایہ کا مولوی ہے مگر اس کا چال چلن ٹھیک نہیں۔ہر طرح کی شرارت اور فتنہ و فساد اور مقدمے کی باتیں لوگ اس سے سیکھنے جاتے ہیں۔ماموں جی اس سے معلوم ہوا کہ ایسے بُرے مولوی کی شان میں یہ حدیث نہیں۔پس آپ یہ دیکھیں کہ مولوی غلام قادر بھی تو اپنے آپ کو منتقی سمجھتا ہے اور اس کے ماننے والے بھی اس کو متقی سمجھتے ہیں۔ماموں صاحب نے کہا، آج کل کے مولویوں کی حالت اسی طرح کی بُری ہے۔لیکن پہلے علماء ایسے نہیں تھے۔اور نہ انہوں نے شریعت کے برخلاف کسی کو بُرا بھلا کہا۔اور مجھے کہا، کہ کسی ایسے مولوی کا نام تو لو جس نے کسی نبی یا ولی کی تکذیب کی ہو یا اُسے تکلیف دی ہو۔میں انکے پاس ادب اور اُن کے غصہ کی وجہ سے بات کھل کر بیان نہیں کر سکتا تھا۔لیکن حُسنِ اتفاق کہئے کہ میری والدہ صاحبہ مرحومہ جوا حمدی ہو چکی تھیں اور اُن کی بڑی بہن تھیں آگئیں اور اُن سے کہنے لگیں۔غلام حسین ، دین کے مسئلہ میں چھوٹے بڑے کا خیال نہیں کیا کرتے۔اور نہ ہی غصے ہونا چاہیے۔تم کو میرا بیٹا اُن بعض مولویوں کے نام سناتا ہے جنہوں نے اپنے وقت کے نبی اور ولی کو نہ مانا اور مخالفت کرتے ہوئے انکو طرح طرح کی تکلیفیں دیں اور دلوائیں۔والدہ مرحومہ کی بات سے ماموں جی بھی کچھ ٹھنڈے ہوئے اور مجھے بھی زیادہ جرات پیدا ہوگئی۔میں نے کہا، (۱) حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا دعوی کیا تو پہلے پہل انکار کرنے والے علماء ہی تھے۔قریش میں سے عمرو بن ہشام جو اپنی قوم کی طرف سے ابو حکم کا خطاب رکھتا تھا۔اور جو بعد میں اسلامی اصطلاح کو رو سے ابو جہل کے نام سے مشہور ہوا۔اس قوم کا بڑا عالم اور سردار تھا۔ایسا ہی دیگر قریش۔اسی طرح یہود اور نصاری میں سے بڑے بڑے علماء مخالف تھے جن کی وجہ سے یہودی اور عیسائی مسلمان نہ ہو سکے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ان كثيراً من الاحبار والرهبان لياكلون اموال الناس بالباطل ويصدون عن سبيل الله (۳۴۹) یعنی بڑے بڑے علماء اور بڑے بڑے گدی نشین لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں، اور اُن کو سیدھے راستہ سے روکتے ہیں تا کہ اُن کی نذریں آنی بند نہ ہو جائیں۔