حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 85 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 85

حیات احمد ۸۵ جلد پنجم حصہ دوم خدا کے لئے ہیں جس نے ہمیں ایسا قیصر عطا فرمایا جو ہمارے حال کی خبر گیری اور پرداخت میں کوئی قصور اور کوتا ہی نہیں کرتا اور کوشش کرتا ہے کہ ہمیں پستی سے باہر لائے اس نے ہمارا دین ہمیں پھر دیا بعد اس کے کہ مذہب اپنے مکانوں سے اکھڑ چکا تھا اور اسی نے قیصرہ ہند اور قیصر کو اس کا مامن بنایا۔سو یہ رحمن کی رحمت اور مکان کی منت ہے اور اگر بندہ نزول نعمت کے وقت خدا کا شکر نہ کرے تو بلا اس پر نازل ہوتی ہے سواس میں شک نہیں کہ ان ہی گناہوں کے سبب سے طاعون نے تمہارے شہروں میں ڈیرے جمادیئے ہیں اب بہت جلد طاعت کی طرف قدم اٹھاؤ۔اور اپنے آپ کو گنا ہوں سے بچاؤ اور اگر تم میری بات پر عمل کرو گے تو مجھے امید ہے کہ دردتم سے دور ہو جائیں گے اور آرام اور چین ترقی کرے گا۔اب جواب دو کہ تمہاری کیا رائے ہے مانتے ہو یا انکار کرتے ہو اور طاعون کا کوئی علاج بجز پر ہیز گاری اور گڑ گڑانے اور دعا کے نہیں۔اور تم دیکھ رہے ہو کہ وہ تمہیں ہلاک کرنے کو تمہاری آنگنوں میں آ اتری ہے اور تمہیں فنا کرنے کو تمہارے صحنوں میں داخل ہو گئی ہے اور کس قدرتمہارے باپ اور بیٹے اس کا شکار ہو گئے سواب دانائی اور زیر کی سے اپنے انجام میں غور کرو اور کتنے تم میں سے اس کے تھیلے میں ڈال دیئے گئے اور قضاء و قدر نے اُس کے کباب کے لئے انہیں پر یاں کیا ؟ تمہیں کچھ علم بھی ہے کہ اس ساری کارروائی کی جڑ کیا ہے؟ سو یا درکھو کہ یہ سب نتیجہ تمہارے فسق و فجور کا ہے۔اب بیٹھ کر روڈ کہ یہ خوشی کا وقت نہیں ہے اور اپنے اندرونی معاملات کو خدا کے سامنے پاک کرو اور اُس ابر کو جو تمہارے چاند پر آ گیا ہے دور کرو۔اس لئے کہ خدا اس بھیڑ یئے اور خوفناک جنگل کو تم سے دور کرے اور تمہیں عزت اور بزرگی عطا کرے۔اور اپنے گھروں کی ساری طرفوں کو خوب پاک صاف کرو اور لاف و گزاف چھوڑ دو اور جو گزر چکا ہے اس کی تلافی کرو۔اور اگر تم باز نہ آؤ تو جان لو کہ میری بات کسی افسانہ گو کی بات نہیں۔دیکھو بلا جرار سیل کی طرح تمہارے ملک