حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 84 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 84

حیات احمد ۸۴ جلد پنجم حصہ دوم ریل گاڑی کے چلنے سے اونٹوں اور قافلوں اور گھوڑوں کی کوئی ضرورت نہیں رہی اب مناسب ہے کہ اپنی نیتوں کو درست کرو اور اس سلطنت کی نسبت نیک گمان کرو اور صاف دلی اور پاک نیت سے اس کے حضور حاضر ہو اور زمین میں باغیوں کی طرح فساد کرتے اور شریروں کی طرح بھاگے بھاگے نہ پھرو اور خوب سمجھ لو کہ سلطنت نے تمہیں ایذا دینے سے ظالموں کے ہاتھ بند کر دیئے اور تم سوتے تھے اور اس نے تمہیں جگایا اور تمہارے سفر اور حضر میں تمہاری پوری نگہبانی کی اور جب تم کہیں کارِ روزگار کرنے اور معاش کی تلاش میں جاتے ہو اور پھر وطن کو واپس آتے ہو دونوں صورتوں میں گورنمنٹ کی طرف سے تم پر محافظ مقرر ہیں اور اس نے تمہاری آبرو اور مال کی خوب نگہداشت کی اور صحت میں اور بیماری میں تمہاری خبر گیری کی اور تم کو امن بخشا جس کے سبب سے تم دولت اور مال میں اور کثرت میں ترقی کر گئے اور یہ سلطنت ہر میدان میں تمہاری مدد کو کھڑی ہوئی اور تمہارے یاروں اور دوستوں اور مکانوں کی نسبت خوب سلوک کیا اور ثابت کر دیا کہ وہ تمہاری پناہ اور جائے امن ہے۔اب تم پر اس کے احسان کے حقوق ثابت ہیں اور اس نے تمہیں ڈاکوؤں اور چوروں سے بچایا اور تمہارے مال و عیال کی نسبت نگہبانی کا حق ادا کر دیا اور اس کی مہربانی تمہاری عمروں کی درازی کا سبب ہوئی ہے اور اس سے تمہیں ایسی عافیت ملی جو تباہ و برباد کر نے والی نہیں اور تمہیں پرلے درجہ کی رفاہیت حاصل ہوئی اور اس نے تمہیں دکھوں اور دردوں کی خوفناک جگہوں سے بچایا اور اپنے فضل وکرم کی حمایت اور پناہ میں لیا اب یہ حال ہے کہ دشمنوں کے ناخن بیداد کی تم تک رسائی نہیں ہو سکتی۔سومناسب ہے کہ اس گورنمنٹ کے شکر ادا کرنے میں اور ذکر و تذکرہ میں گونگے اور بیہوش نہ بن جاؤ اس لئے کہ احسان کا بدلہ احسان ہے اور شکر سے غفلت کرنا کفران ہے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ سلطنت تمہارے لئے بڑا امن بخش تعویذ ہے اور اس کے ہوتے کسی خود پوش مددگار کی ہمیں ضرورت نہیں۔اور حقیقت میں ساری حمد میں