حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 86
حیات احمد ۸۶ جلد پنجم حصہ دوم میں داخل ہو چکی ہے۔سو جو شخص میری بات کو قبول کرے گا بوڑھا ہو یا جوان ہوا سے ہنرل نہیں سنجیدہ بات سمجھے گا اور سب جھگڑے چھوڑ دے گا وہ کامیاب ہوگا۔سواب تم حکم قاضی کی طرف آ جاؤ۔اور اپنی گزشتہ کر تو توں پر پشیمان ہو جاؤ اور میری بات کو اپنے حق میں میرا بڑا احسان یاد کرواسی میں میری خوشی اور تمہاری خوشی ہے اور جو شخص میری بات کو قبول کرے گا مجھے امید ہے کہ خدا اس کے دل کی شکست درست کر دے گا اور اس کے رنج و غم کو دور اور اس کے احوال کو ٹھیک کرے گا۔اے لوگو! مجھے معلوم ہو رہا ہے اور میری فراست کہہ رہی ہے کہ یہ بلا گناہوں کی کثرت کی وجہ سے آئی ہے جس طرح پہلے زمانوں میں آیا کرتی تھی۔اب تم خداوند تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی فکر کر واور ہر قسم کی بدکاری اور فساد سے بچ جاؤ تو خدا چاہے تم ضرور کیڑوں مکوڑوں کی موت مرنے سے نجات پا جاؤ گے۔مجھے ڈر ہے کہ یہ مرض کہیں ہر شہر میں داخل نہ ہو جائے اور ہر پیشہ میں راہ نہ پا جائے پس پھر وہاں کے درندوں اور ہرنوں سب کو کھا جائے اور چراگاہوں اور پانیوں کو بالکل کھا جائے اور پی جائے۔سونیکیوں میں لگ جاؤ اور صدقات خیرات نکالو اور محتاجوں کو دو قسم بخدا مجھے امید ہے کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو طاعون سے بچائے گا جو میرا کہا مانیں گے سوتم عیش پسندوں کی پوشاک بدن سے اتار پھینکو اور سونے والوں کی غفلت سے الگ ہو جاؤ اور راکعین اور قائمین سے مل کر نماز پڑھو اور صبر اور صلوٰۃ اور خیرات سے مدد لو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا تمہیں ہر طرح کے دکھ درد سے محفوظ رکھے گا اور تم گمراہی کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کا رحم دیکھو گے۔میں نے تمہیں اسی طرح کہ دیا جس طرح ملہم کہا کرتے ہیں سو تم عنقریب جان لو گے۔grins خاکسار مرزا غلام احمد منمقام قادیان ۱۰ر دسمبر ۱۹۰۱ء مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۵۳۷ تا ۴۸ ۵ طبع بار دوم )