حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 75 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 75

حیات احمد ۷۵ جلد پنجم حصہ دوم یعنی یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اول تو اس نے ہر یک طور کی سخت کلامی سے منع فرمایا اور ہر یک محل میں کفار کا دل خوش رکھنے (کے) لئے تاکید کی اور پھر آپ ہی اپنے قول کے مخالف کا رروائی شروع کر دی اور ہر ایک قسم کی گالیاں منکروں کو سنا ئیں بلکہ گالیاں دینے کے لئے تاکید کی۔سو جاننا چاہیے کہ جن مولویوں نے ایسا خیال کیا ہے کہ گویا عام طور پر هر یک سخت کلامی سے خدائے تعالیٰ منع فرماتا ہے۔یہ اُن کی اپنی سمجھ کا ہی قصور ہے ورنہ وہ تلخ الفاظ جو ا ظہار حق کے لئے ضروری ہیں اور اپنے ساتھ اپنا ثبوت رکھتے ہیں وہ ہر یک مخالف کو صاف صاف سنا دینا نہ صرف جائز بلکہ واجبات وقت سے ہے تامداہنہ کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں خدائے تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ایسی سخت تبلیغ کے وقت میں کسی لَا عِینُ کی لعنت اور کسی لائم کی ملامت سے ہر گز نہیں ڈرے کیا معلوم نہیں کہ آنحضرت کے وقت میں جس قدر مشرکین کا کینہ ترقی کر گیا تھا اس کا اصل باعث وہ سخت الفاظ ہی تھے جو اُن نادانوں نے دُشنام دہی کی صورت پر سمجھ لئے تھے جن کی وجہ سے آخر لسان سے سنان تک نوبت پہنچی ورنہ اوّل حال میں تو وہ لوگ ایسے نہیں تھے بلکہ کمال اعتقاد سے آنحضرت ﷺ کی نسبت کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلَى ربہ یعنی محمد اللہ اپنے رب پر عاشق ہو گئے ہیں جیسے آج کل کے ہندو لوگ بھی کسی گوشہ نشین فقیر کو ہر گز بر انہیں کہتے بلکہ نذریں نیازیں دیتے ہیں۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰۸ تا ۱۱۵) آپ اپنی زندگی کے آخر تک امن و آشتی کا پیغام اور دعوت اتحاد بین المذاہب کی طرف متوجہ رہے چنانچہ آپ کی آخری دعوت ”پیغام صلح ہی تھی اور مختلف طریقوں حرب العقائد کو صلح اور سلامتی سے بدل دینے کی سعی فرماتے رہے اس کی تفصیل آپ کی سیرت میں انشاء اللہ ہوگی۔اسی طرح حقیقۃ الوحی کے تتمہ صفحہ ۲۱ پر آپ نے لکھا کہ ایسا ہی تمام مخالفوں کی نسبت میرا یہی دستور رہا ہے کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ