حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 76
حیات احمد ۷۶ جلد پنجم حصہ دوم میں نے کسی مخالف کی نسبت اُس کی بد گوئی سے پہلے خود بد زبانی میں سبقت کی ہو مولوی محمد حسین بٹالوی نے جب جرات کے ساتھ زبان کھول کر میرا نام دقبال رکھا اور میرے پر فتویٰ کفر لکھوا کر صدہا پنجاب و ہندوستان کے مولویوں سے مجھے گالیاں دلوائیں اور مجھے یہود و نصاری سے بدتر قرار دیا اور میرا نام کذاب، مفسد ، دجال ، مفتری ، مکار، ٹھگ ، فاسق فاجر ، خائن رکھا تب خدا نے میرے دل میں ڈالا کہ صحت نیت کے ساتھ ان تحریروں کی مدافعت کروں۔میں نفسانی جوش سے کسی کا دشمن نہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک سے بھلائی کروں مگر جب کوئی حد سے بڑھ جائے تو میں کیا کروں۔میرا انصاف خدا کے پاس ہے ان سب مولوی لوگوں نے مجھے دکھ دیا اور حد سے زیادہ دکھ دیا اور ہر ایک بات میں ہنسی اور ٹھٹھا کا نشانہ بنایا۔“ معذوری تمه حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲ ۴۵۳،۴۵) میں اس موقعہ پر علماء مکفرین اور دوسرے مذاہب کے بعض دشمنوں کی گالیوں کا نمونہ بھی یہاں درج کرتا جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے سیّد و مقتدا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِين علﷺ کواپنی تالیفات میں لکھی ہیں۔مگر مجھے پسند نہیں کہ اس گندگی سے کتاب کو آلودہ کروں۔ورنہ ان کے پڑھنے سے ایک صاف دل اور شریف انسان پر یہ حقیقت اظہر من اسمس ہو جاتی کہ حضرت کا مقام ہی بیج اور اعلیٰ تھا۔خلاصہ یہ کہ حضرت اقدس پر یہ الزام سراسر بہتان اور قلت فکر اور اللہ تعالیٰ کے اخذ سے چشم پوشی کر کے ظلم اور عداوت کی راہ سے کیا گیا تھاور نہ حق پوشی نہ ہوتی تو الصُّلْحُ خَيْرٌ کا خیر مقدم کرتے۔