حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 74 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 74

حیات احمد ۷۴ جلد پنجم حصہ دوم ہر یک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچا دیوے پھر اگر وہ سچ کو سن کر ا فر وختہ ہوتو ہوا کرے۔ہمارے علماء جو اس جگہ وَلَا تَسُبُوالے کی آیت پیش کرتے ہیں میں حیران ہوں کہ اس آیت کو ہمارے مقصد اور مدعا سے کیا تعلق ہے۔اس آیت کریمہ میں تو صرف دُشنام دہی سے منع فرمایا گیا ہے نہ یہ کہ اظہار حق سے روکا گیا ہو۔اگر نادان مخالف حق کی مرارت اور تلخی کو دیکھ کر دُشنام دہی کی صورت میں اس کو سمجھ لیوے اور پھر مشتعل ہو کر گالیاں دینی شروع کرے تو کیا اس سے امر معروف کا دروازہ بند کر دینا چاہیے؟ کیا اس قسم کی گالیاں پہلے کفار نے کبھی نہیں دیں ؟ آنحضرت ﷺ نے حق کی تائید کے لئے صرف الفاظ سخت ہی استعمال نہیں فرمائے بلکہ بُت پرستوں کے ان بتوں کو جو ان کی نظر میں خدائی کا منصب رکھتے تھے اپنے ہاتھ سے تو ڑا بھی ہے۔اسلام نے مداہنہ کو کب جائز رکھا اور ایسا حکم قرآن شریف کے کس مقام میں موجود ہے۔بلکہ اللہ جَلْ شَانَهُ مداہنہ کی ممانعت میں صاف فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے باپوں یا اپنی ماؤں کے ساتھ بھی ان کی کفر کی حالت میں مداہنہ کا برتاؤ کریں وہ بھی ان جیسے ہی بے ایمان ہیں اور کفار مکہ کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا ہے وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ کے یعنی اس بات کو کفار مکہ دوست رکھتے ہیں کہ اگر تو حق پوشی کی راہ سے نرمی اختیار کرے تو وہ بھی تیرے دین میں ہاں میں ہاں ملا دیا کریں۔مگر ایسا ہاں میں ہاں ملانا خدا تعالیٰ کو منظور نہیں۔غرض آیت قرآنی جو معترض نے پیش کی ہے وہ اگر کسی بات پر دلالت کرتی ہے تو صرف اسی بات پر که معترض کو کلام الہی کے سمجھنے کی مس تک نہیں نہیں خیال کرتا کہ اگر یہ آیت ہر یک طور کی سخت زبانی سے متعلق سمجھی جائے تو پھر امر معروف اور نہی منکر کا دروازہ بند ہو جانا چاہیے اور نیز اس صورت میں خدائے تعالیٰ کا کلام دو متناقض امروں کا جامع ماننا پڑے گا ل الانعام : ١٠٩ القلم : ١٠