حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 73
حیات احمد ۷۳ جلد پنجم حصہ دوم ساتھ ہی مجھ کو بھی۔تو نے ان کے عقل مندوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کو شَرُّ الْبَرِيَّہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیز م جہنم اور وَقُودُ النَّار رکھا اور عام طور پر ان سب کو رجس اور ذریت شیطان اور پلید ٹھہرایا میں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دُشنام دہی سے باز آجاور نہ میں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا آنحضرت عیے نے جواب میں کہا کہ اے چا! یہ دُشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اگر اس سے مجھے مرنا در پیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں ، میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رک نہیں سکتا اور اے چا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تو مجھے پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہو جا بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں۔میں احکام الہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں بخدا اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہوکر ہمیشہ اسی راہ میں مرتار ہوں یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہا لذت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں۔آنحضرت علی یہ تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقت نمایاں ہورہی تھی اور جب آنحضرت علی یہ تقریر ختم کر چکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابوطالب کے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ میں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا تو اور ہی رنگ میں اور اور ہی شان میں ہے جا اپنے کام میں لگا رہ جب تک میں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ آنحضرت ﷺ نے ابو طالب کے اعتراض کا خود اپنی زبانِ مبارک سے جواب دیا در حقیقت وہی جواب ہر یک معترض کے ساکت کرنے کے لئے کافی و وافی ہے کیونکہ دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری ھے ہے۔