حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 38
حیات احمد ۳۸ جلد پنجم حصہ دوم اور آفتاب کے چڑھنے اور ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی حمد کی تسبیح کر اور رات کی گھڑیوں اور دن کے اطراف میں بھی تسبیح پڑھ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تیری من مانی مرادیں پوری ہو جائیں گی اور تیرے دشمن کفار کو جو ہم نے طرح طرح کے آسائش کے سامان دے رکھے ہیں ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھ کہ یہ سب سامان اسی ورلی زندگی کی نمائش اور زیبائش ہے اور اس سے ہماری یہ غرض ہے کہ انہیں امتحان میں ڈال کر جانچیں اور تو لیں اور تیرے رب کی عطا اور روزی جو تجھے دی گئی ہے خیر اور برکت اسی میں ہے اور اس فانی متاع کے مقابل ابدی اور باقی یہی ہے اور تو اپنے اہل کو نماز کا امر کر اور خود بھی اس پر ہر قسم کا دکھ درد برداشت کر کے قائم رہ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے اور رازق تو ہم ہیں اور کامیابی اور انجام نیک تو تقویٰ کے لئے یعنی متقی کے لئے مقدر ہے اور کا فرنکتہ چینی کے طور پر کہتے ہیں کہ ہماری اس تکذیب کے عوض میں جو اس کی نسبت ہم کر رہے ہیں ہمارے لئے کوئی سزا کا نشان کیوں نہیں لاتا اس کے جواب میں ان سے کہو کہ کیا پہلے نوشتوں کے کھلے نشان ان تک پہنچے نہیں۔ان آیات میں غور کرنے والا سمجھ سکتا ہے کہ معجزات یا آیات و علامات نبوت کی حقیقت کیا ہے وہ ہیں تو وہی واقعات جو قانون قدرت کے بچے اور صحیح نظام کے موافق واقع ہوتے اور بچے سائنس کی مستقیم راہ پر ہمیشہ ان کی رفتار ہوتی ہاں ان واقعات کا وقوع انسان کے پر تحدی اور پر شوکت دعوئی کے بعد ا فاضتا بمعجزہ اور اس کے صدق دعویٰ کی دلیل ٹھہر جاتا ہے اس لئے کہ محدود العلم اور ضعیف القویٰ انسان کے قوت قلبی اور پوری سکینت سے بھرے ہوئے الفاظ کہ یوں ہی ہوگا اور یقیناً یوں ہی ہوگا بتاتے ہیں کہ یہ دعوی در حقیقت اس ذات کی زبان پر چڑھ کر گفتگو کر رہے ہیں جو ذرات کا ئنات پر متصرف اور مد بر بالا رادہ وجود ہے اور یہ نظام شمسی یقیناً ایک ایسے مقتدر ہاتھ میں کٹھ پتلی کی طرح ناچ رہا ہے جو اپنی مرضی ارادہ اور نافذ مشیت کے موافق ہر آن میں ذرات نظام کو کام میں لانے پر آزاد قادر ہے اور صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ نظام مضبوط حکمت اور روشن تمیز اپنے اندر رکھتا ہے یا یوں کہو کہ خدا تعالیٰ کی حکومت ممیز حکومت ہے اور وہ قادر ہے کہ اپنے ارادہ کے موافق اپنے دوستوں اور اپنے دشمنوں یا اپنے برگزیدوں اور ان کے مخالفوں کو اسی نظام سے دو مختلف نتیجے