حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 37
حیات احمد ۳۷ جلد پنجم حصہ دوم ترجمہ۔تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو ہم تیرے پروردگار کے بھیجے آئے ہیں۔پیغام یہ ہے کہ بنی اسرائیل ہمارے ساتھ کر دو اور انہیں دکھ نہ دو اور تیرے رب کی طرف سے اپنی صداقت پر بڑا عظیم الشان نشان لائے ہیں اور ہم کو خدا نے صاف کہہ دیا ہے کہ ہماری باتوں کو جھٹلانے والا اور تکبر سے منہ پھیر نے والا خدا کی سزا میں گرفتار ہوگا۔پھر اس سورۃ کے آخر میں جہاں خدا کی بلیغ کتاب نے عجیب اور غریب مسبوق اسلوب کو نباہنا چاہا ہے اس واقعہ کو حضرت مثیل موسیٰ علیہ الصلواۃ والسلام کی کامیابی کی تمہید ٹھہرا کر آپ کے دشمنوں کو اس نظیر سے دھمکایا گیا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسْكِنِهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَايَتِ لِأُولِي النُّهى وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ زَبَكَ لَكَانَ لِزَامًا وَاَجَلٌ مُّسَمًّى فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَدِرَ بَّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَ مِنْ أَنَآئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إلى مَا مَتَعْنَابِةٍ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيوةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُم فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَاَبْقَى وَأمْرُ اَهْلَكَ بِالصَّلوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْتَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى وَقَالُوا لَوْلَا يَأْتِينَا بِايَةٍ مِنْ رَّبِّهِ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيْنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الأولى ل ترجمہ۔کیا موسیٰ اور فرعون کے واقعہ کو سن کر انہیں راہ نہیں مل گئی کہ کیونکر ہم نے یہ قصہ موسیٰ و فرعون کا انہیں سنایا تو سمجھ لیں کہ ہماری غرض اس سے انہیں یہ سمجھانا ہے کہ ہم ان سے انداز و شیوہ کے کس قدر گروہ ان سے پہلے ہلاک کر چکے ہیں جو بلا روک اور آزادی سے اپنے مسکنوں میں رہتے تھے۔اس میں ان دانشمندوں کے لئے جو اپنا بچاؤ کرنے کی راہوں کو سمجھ سکتے اور ہلاکت کی راہوں سے بچنے کی آرزو اور خواہش رکھتے ہیں بڑے نشان ہیں اور اگر فیصلہ کی ایک حکیمانہ میعاد ہماری طرف سے مقرر نہ ہوئی ہوتی تو ہم ان گستاخوں پر فوری عذاب نازل کر دیتے ان کی باتوں پر صبر کر اطه : ۱۲۹ تا ۱۳۴