حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 39
حیات احمد ۳۹ جلد پنجم حصہ دوم دکھائے پانی کو ایک دشمن کے حق میں آگ اور آگ کو ایک دوست کے حق میں گلزار بنادے یہی ایک تمیز یعنی دوست اور دشمن میں فرق اور امتیاز کر دینا ایک فریق کو باوجود ان کے مسلّم ضعف اور بے سامانی کے ان کے دعووں کے مطابق حرفاً حرفاً منصور اور موئید کرنا اور دوسرے گروہ کو باوجود ان کے خوفناک کبر اور استکبار اور پورے سامانوں کے مقہور کرنا اور لا معلوم قدامت سے اس سُنّتِ مؤکدہ کا لا تبدیل چلا آنا واضح سے واضح دلیل ہے باری تعالیٰ کی ہستی پر اور اس کے مقابل کسی دوسری دلیل میں یہ تاثیر حق اور قبول اور روشنی نہیں مثلاً غور کرو اور خوب سوچو کہ یہ مسلم امر ہے کہ اس کائنات کی ترکیب بے جوڑ اور عبث نہیں بلکہ اس کی تمام ترکیب اور اسالیب اس طرح موضوع ہوئی ہیں کہ ان سے مقسم قسم کے سچے سائینسوں نے نشو و نما پایا ہے اور مادی فلاسفر اور حکماء اضطرار سے ایسا عقیدہ رکھنے کی طرف جھک گئے کہ یہ قانونِ قدرت اپنے نتائج کے دینے پر مجبور محض ہے اس کے علل اور معلولات کا سلسلہ اپنی فطری ترکیب اور افتاد کے موافق تحریک میں آتے رہنا ضروری ہے اس میں ممیزہ ارادہ نہیں۔جیسے مثلاً آفتاب کی روشنی کو ارادہ اور تمیز نہیں بخشی گئی کہ وہ اپنی کرنوں کے ڈالنے میں اپنے پرستار اور منکر میں تین فرق کر لے آج جو اس قد ر مادہ پرستی میں دہریت کا سمندر تلاطم میں آ رہا ہے اور خدا پرستی کو پرانے وحشی زمانہ کے بچوں کو خوش کرنے والے کھیل سمجھا گیا ہے اس کی وجہ بجز اس کے کیا ہے کہ یہ اعتقاد بصر اور بصیرت اور لذت دل سے طبائع میں نہیں رہا کہ اس نظام پر حکمت کی اصلی گل ایک قادر مطلق، حکیم، مدبر بالا رادہ اور مُصَرِف اور مُتَصَرِّقَ عَلَى الكُلِّ کے قبضہ میں ہے اور وہ اپنے پُر علم اور پُر قدرت ارادہ اور مشیت سے ان مشینوں سے ہر آن میں کام لیتا ہے۔مگر جب یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو جائے کہ جیسا کہ خدا کے پاک نوشتوں اور اس کے برگزیدہ ماموروں نے دعوی کیا ہے یہ نظام شمسی اپنے پر حکمت نظام میں اپنے دخل اور تصرف کے بغیر ایک مقتدر حکیم اور مدبر کے احاطہ قدرت میں اس کی انگلیوں پر کھیل رہا ہے تو کس پر صفائی سے خدا کا ایسا وجود جو جامع جمیع صفات کا ملہ اور تعطل اور انجماد بے تصرفی اور سکوت وغیرہ نقائص سے منزہ ثابت ہو جائے گا اور یہ بات جو انسان کو اس کی غایت آفرینش پر پہنچانے کی جڑ ہے حاصل نہیں ہوسکتی بجز