حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 32
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم کو ہم انبیاء و مرسلین کی زندگی میں جاری پاتے ہیں۔تو ہمارے لئے یہ امر کبھی بھی ناخوش یا رنج دلانے والا نہیں ہوسکتا مجھ پر بنی یا ٹھٹھا کیا جاتا ہے یا کیا جاوے تو مجھے اس کی پرواہ نہیں اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا یہی قانون ہے کہ اُن لوگوں کے ساتھ جو خدا کی طرف سے آتے ہیں دنیا کے لوگ جو تاریکی میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں ایسے ہی سلوک کرتے ہیں۔پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایک قانون مقرر فرما دیا ہے کہ قیامت تک دنیا میں تفرقہ ضرور رہے گا۔چنانچہ قرآن شریف میں یہ امر بڑی صراحت کے ساتھ موجود ہے قرآن کریم سے بڑھ کر اور کوئی تعلیم کامل کیا ہو سکتی ہے اس میں سب سے بڑھ کر آیات اور برکات رکھے ہوئے ہیں جو ہر زمانہ میں تازہ اور زندہ ہیں پھر اگر یہ قانون الہی نہ ہوتا تو چاہیے تھا کہ دنیا کی کل قومیں اس کو قبول کر لیتیں۔مگر خاص زمانہ رسالت مآب ﷺ میں بھی دوسرا فرقہ موجود تھا جیسا نبی کامل تھا ویسی ہی کتاب کامل تھی۔لیکن ابو جہل اور ابولہب وغیرہ نے کچھ فائدہ نہ اٹھایا وہ یہی کہتے رہے إِنَّ هَذَا الشَيْء يراد میاں یہ تو دکانداری ہے اور خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيْهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وْنَ کے اللہ تعالیٰ نے جو اس میں ما کے ساتھ حصر کیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو سچا ہے اس کے ساتھ ہنسی اور ٹھٹھا ضرور کیا جاتا ہے اگر یہ نہ کیا جاوے تو خدا کا کلام صادق نہیں ٹھہرتا۔صادق کی یہ بھی نشانی ٹھہری کہ دنیا کے سطحی خیال کے لوگ اُن سے ہنسی ٹھٹھا کریں گے۔جیسا کہ آدم کے ساتھ کیا گیا موسیٰ اور مسیح کے صلى الله ساتھ کیا گیا ہمارے نبی کریم علیہ سے کیا گیا۔ایسا ہی مجھ سے بھی کیا جانا ضروری تھا۔تو میری غرض اس بیان سے یہ تھی کہ میرے دعوی کو بھی اسی طرح تعجب کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جیسے پہلے ماموروں کے دعاوی کو دیکھا گیا اور جو کچھ ان کے ساتھ مخلوق پرستوں نے سلوک کیا ضرور تھا کہ میرے ساتھ بھی کیا جاتا کیونکہ قانونِ الہی اسی طرح پر ہے آپ لوگ آگئے ہیں چونکہ عمر کا کچھ اعتبار نہیں ہے کوئی احمق ہو گا جو عمر کا اعتبار کرتا ہو اور موت سے بے فکر رہے اس لئے مجھے تبلیغ حق کے لئے کہنا پڑتا ہے مجھے اس بات کی کچھ پروا نہیں کہ کوئی مانتا ہے یا نہیں میری غرض صرف پہنچا دینا ہے کیونکہ میں تبلیغ ہی يس: ٣١