حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 31
حیات احمد ۳۱ جلد پنجم حصہ دوم رخصتی اور ان کے دوستوں سے بات چیت کرنے کی اجازت ڈاکٹر فیض قادر صاحب کو حضرت نے دے دی تھی چنانچہ بعد نماز مغرب وہ لوگ آپہنچے جیسا کہ گزشتہ اشاعت میں ہم ذکر کر آئے ہیں حضرت اقدس نے اس سے پہلے کہ اپنے دعوے کے متعلق کوئی کلام کریں۔فرمایا دو دن سے مجھے بہت تکلیف ہے پیچش کی وجہ سے اگر چہ میں اس قابل نہیں تھا کہ کوئی گفتگو کر سکوں مگر زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کو اپنے شبہات دور کرنے میں مدد دوں اور وہ بات آپ تک پہنچا دوں جو میں لے کر آیا ہوں اس قدر مختصر سی تمہید کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے سلسلہ کلام اس طرح شروع فرمایا۔اصل میں بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے کام دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جو ہر روز لوگوں کی نظر میں ہوتے ہیں اور جن کو وہ دیکھتے ہیں اور دوسری ایک قسم اور خدا تعالیٰ کے کاموں کی ہے جو کبھی کبھی ظاہر ہوتی ہے چونکہ وہ کبھی کبھی ہوتی ہے اس لئے لوگوں کی نظروں میں عجیب ہوتے ہیں اور ان کا سمجھنا ان کے لئے مشکل نظر آتا ہے مگر سمجھ دار آدمی تعصب سے خالی ہو کر ان پر غور کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ بھی ان کے لئے ایک راہ پیدا کر دیتا ہے اور وہ ان کو سمجھ لیتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں مگر نا اہل ضدی اور متعصب ان پر توجہ نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ کے خوف کو مد نظر رکھ کر ان پر فکر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے ان عجیب در عجیب کاموں سے سب سے بڑا کام اس کے نبیوں اور رسولوں اور ماموروں کا آنا ہے۔یہ لوگ اسی زمین پر چلتے پھرتے ہیں اور عام آدمیوں کی طرح بشری حوائج اور کمزوریوں سے مستی نہیں ہوتے کوئی اوپری اور انوکھی بات ان میں ایک خاص زمانہ تک پائی نہیں جاتی اس لئے جب وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم خدا کی طرف سے آئے ہیں اور خدا تعالیٰ ہم سے کلام کرتا ہے یا وہ واقعات آئندہ کے متعلق خدا تعالیٰ سے خبر پا کر کچھ بولتے ہیں تو لوگ اُن کی ان باتوں پر تعجب کرتے ہیں سعادت مند اور رشید لوگ تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ان کی طرف رجوع کرتے ہیں مگر متکبر ضدی انکار کرتے اور اس کی باتوں کو ٹھٹھے اور جنسی میں اڑاتے ہیں۔پس جبکہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک قانون ہے جس