حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 33
حیات احمد کے لئے مامور ہوا ہوں۔آخری فیصلہ ۳۳ جلد پنجم حصہ دوم ۱۰ را گست ۱۹۰۱ء کو بحث ہوئی جس میں مکرم خواجہ کمال الدین صاحب نے ایسے فصیح و بلیغ اور معقول و مدلل بحث کی کہ سامعین عش عش کر اٹھے وہ مجمع قانون دانوں کا مجمع تھا۔ضلع کے ممتاز وکلاء اور بعض عدالتی موجود تھے۔تقریر قانونی اسناد سے مرقع تھی ایسی کہ جناب خدا بخش صاحب ڈسٹرکٹ حج نے بھی اس کی تعریف کی۔یہ تائید ربانی تھی۔فیصلہ کے لئے ۱۴ راگست ۱۹۰۱ء مقر رتھی اور فیصلہ کا خلاصہ یہ تھا کہ ”دیوار گرا کر سفید زمین بنا دی جائے اور اس میں کوئی جدید تعمیر نہ بنائی جاوے اور ایک سور و پیہ ہرجانہ مدعی کو علاوہ اخراجات مقدمہ دیا جاوے۔“ حضرت مخدوم الملة کے تاثرات فرمایا۔اس فیصلہ پر حضرت مولوی عبدالکریم رضی اللہ عنہ نے اپنے تاثرات کا اس طرح پر اظہار خَرَابُ الْجِدَارِ لِاعْتِبَارِ أُولِى الَا بُصَارِ دیوارڈ ھے گئی فضل کی بارش برسی اور فتنہ کی گرد بیٹھ گئی مَا ظَنَنْتُمُ اَنْ يَخْرُجُوا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَّا نِعَتُهُمْ حُصُونُهُمْ مِّنَ اللهِ فَانهُمُ اللهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمُ بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِى الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَأولِي الْأَبْصَارِ ترجمہ۔تمہیں اپنی کمزوری اور بے سامانی اور حریف کے سامان کی قوت دیکھ کر گمان بھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلیں گے۔وہ اس یقین سے بھرے ہوئے تھے کہ ان کے قلعہ الحشر : ٣