حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 28 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 28

حیات احمد ۲۸ جلد پنجم حصہ دوم یسوع صاحب بار بار شاگردوں کو جاگتے رہنے کی تاکید کرتے ہیں مگر جب آ کر دیکھتے ہیں تو انہیں سوتے ہی پاتے ہیں گویا آپ کے حکم کی کوئی تعمیل نہیں کی جاتی ہے۔آخر تیسری مرتبہ یسوع انہیں سوتا ہی چھوڑ کر چلا گیا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح موعود کے خدام نے کیا نمونہ دکھایا، اور خدمات کو چھوڑ کر ہم اس مقدمہ ہی کے متعلق اس سونے کے رنگ کے واقعہ کو سنانا چاہتے ہیں اگر چہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام ایسے رحیم و کریم ہیں کہ اپنے خدام کیا کسی شخص کو بھی کبھی کوئی تکلیف اپنی آسائش اور آرام کے لئے دینا نہیں چاہتے بلکہ خود اپنے اوپر تکلیف گوارا کر کے دوسروں کو آرام پہنچانا چاہتے ہیں۔چنانچہ سیرت مسیح موعود کے پڑھنے والے اس بات سے بے خبر نہیں ہوں گے۔محمد حسین والے مقدمہ میں بمقام پٹھان کوٹ جبکہ خاکسار ایڈیٹر الحکم رات کو بیمار ہو گیا تو حضرت اقدس نے آدھی رات کو اٹھ کر اسے دوائی عنایت فرمائی تھی۔جَزَاهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ جس روز رات کو گورداسپور پہنچے تھے حضرت اقدس کی طبیعت کسی قدر ناساز تھی با ایں ہمہ حضرت اقدس نے تمام احباب کو جو ساتھ تھے آرام کرنے اور سوجانے کی ہدایت فرمائی تھی۔چنانچہ تعمیل ارشاد کے لئے متفرق مقامات پر احباب جا کر سور ہے۔برادرم عبدالعزیز صاحب اور دو تین اور دوست اس مکان میں رہے جہاں حضرت اقدس آرام کرتے تھے ساری رات حضرت اقدس ناسازی طبیعت اور شدت حرارت کی وجہ سے سو نہ سکے۔چونکہ بار بار رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوتی تھی اس لئے بار بار اٹھتے تھے حضرت اقدس ارشاد فرماتے تھے کہ میں حیران ہوں کہ ساری رات منشی عبدالعزیز صاحب یا تو سوئے ہی نہیں یا اس قدر ہوشیاری سے پڑے رہے کہ ادھر میں سراٹھاتا تھا اُدھر منشی صاحب اٹھ کر اور لوٹا لے کر حاضر ہو جاتے تھے۔گویا یہ بندہ خدا ساری رات جاگتا ہی رہا اور ایسا ہی دوسری رات بھی پھر فرمایا کہ در حقیقت آداب مُر شد اور خدمت گزاری ایسی شے ہے جومُریدومُر شد میں ایک گہرا رابطہ پیدا کر کے وصول الی اللہ اور حصولِ مرام کا نتیجہ پیدا کرتی ہے اس خلوص اور اخلاص کو جو نشی صاحب میں ہے ہماری جماعت کے ہر فرد کو حاصل کرنا چاہیے۔