حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 27
حیات احمد دیتا ہے یہی تو اس کی خدائی ہے۔۲۷ جلد پنجم حصہ دوم ہاں یہ بات بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ جس کے لئے دعا کی جاتی ہے اس کو ضروری ہے کہ خود اپنی صلاحیت میں مشغول رہے اگر وہ کسی اور پہلو سے خدا کو ناراض کر دیتا ہے تو وہ دعا کے اثر کو روکنے والاٹھہرتا ہے۔مسنون طریق پر احباب سے مدد لینا گناہ نہیں ہے مگر مقدم خدا کور کھے اور ایسے اسباب اختیار نہ کرے جو خدا تعالیٰ کی ناراضی کا موجب ہوں میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ دعا کروں گا تم خود اپنی صلاحیت میں مشغول ہو۔اور خدا تعالیٰ سے صلح کرو کہ یہی کارساز ہے۔مسیح موعود اور یسوع انجیلی کے شاگرد اس مقام پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم مسیح موعود کے خدام اور یسوع انجیلی کے شاگردوں پر بھی ایک نظر کریں۔یسوع صاحب کا گرفتار کرانے والا یہودا اسکر یوطی یسوع صاحب کا خاص حواری اور خزانچی تھا۔پطرس جو اعظم الحوار تین کہلاتا ہے اس نے خود یسوع صاحب کے سامنے عدالت میں تین بار انکار کیا اور لعنت کی۔باقیوں کی نسبت انجیل میں لکھا ہے کہ یسوع ان کو لے کر تسمنی نام ایک جگہ میں آیا اور اپنے شاگردوں سے کہنے لگا کہ یہیں بیٹھے رہنا جب تک میں وہاں جا کر دعا مانگوں اور پطرس اور بدی کے دونوں بیٹوں کو لے کر غمگین اور بے قرار ہونے لگا۔اس وقت اس نے ان سے کہا میری جان نہایت غمگین ہے یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے تم یہاں ٹھہر واور میرے ساتھ جاگتے رہو اور پھر تھوڑا آگے بڑھ کر منہ کے بل گر گیا اور یہ دعا مانگی کہ اے میرے باپ ! اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے مل جاوے۔تاہم میری نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو پھر شاگردوں کے پاس آ کر انہیں سوتے پایا اور پطرس سے کہا کہ کیوں تم میرے ساتھ ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکے۔جاگو اور دعا مانگو تا کہ آزمائش میں نہ پڑو پھر دوبارہ اس نے جا کر یہ دعا مانگی اور آ کر انہیں پھر سوتے پایا۔وغیرہ وغیرہ۔۔