حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 330 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 330

حیات احمد ۳۳۰ جلد پنجم حصہ دوم پر وہ خارق عادت اثر کیا کہ اتنے بڑے مجمع کثیر میں عالم سکوت ہو گیا اور مضمون کی قوت اور شجاعت نے مخالفین پر وہ استیلا پایا کہ گویا وہ دریائے حیرت میں ڈوب گئے اور مخالف مولوی صاحبان پر تو موت وارد ہو گئی کاٹو تو خون نہیں حس و حرکت ندارد خاموشی کے عالم میں مولوی ابو یوسف صاحب کے چہرے پر ٹکٹکی لگائے بیٹھے ہیں اور حکام انتظام اور فہیم لوگوں کے چہرہ پر آثار مسرت پائے جاتے ہیں مضمون کا ابتدائی حصہ سنت اللہ کی تشریح اور تعریف اور ان کے مسائل طبعی کی تحقیقات میں تھا جن سے مولوی ابراہیم صاحب نے حضرت مسیح ابن مریم کے رفع جسمانی پر پتھر اور پرندوں کی مثال دے کر استدلال کیا تھا اور مولوی ابو یوسف صاحب نے اس استدلال کو ان کے علم طبعی سے ناواقفی پر مبنی قرار دے کر ایسا باطل کیا کہ آئندہ مولوی صاحب کو اس قسم کے استدلال کی جرات بھی نہ ہوگی خدا تعالیٰ کی وہ تمام قانونی آیتیں پیش کیں جو اس کی مخلوقات کے لئے علیحدہ علیحدہ حد بندی رکھتی ہیں اور سنت اللہ کے اصل مفہوم کو لوگوں کے ذہن نشین کر دیا۔پھر نوع انسان کے متعلق خدا تعالیٰ کی عادت اور سنت کو بڑے بسط سے بیان کیا اور نصوص قطعیہ قرآنیہ اور حدیثیہ سے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح بنی نوع کے متعلق الہی قوانین اور ضوابط اور خواص کے لوازم سے کسی طرح بھی مستقلی نہیں ہو سکتے پھر لفظ آیت اللہ کی تشریح کی اور اس سے مولوی ابراہیم صاحب کا اپنے دعوئی پر استدلال کرنا باطل ٹھہرایا اور آیت اللہ اور آية للناس میں قرآن ہی کی رو سے ایسے لوگوں کو بھی داخل کر دیا جو نبی تو کیا بلکہ کافر اورا کفر تھے پھر مولوی صاحب کا حضرت مسیح کے تکلم فی المہد سے اپنے دعویٰ پر استدلال کرنا باطل قرار دیا اور قرآن اور حدیث کی رو سے تکلم فی المہد کو حضرت مسیح کا ہی خاصہ ہونا غلط ٹھہرایا او نقل صحیح سے یہ ثابت کر دیا کہ کئی ایک اور اشخاص انبیاء وغیرہ میں بہت سے اس صفت سے موصوف ہیں۔پھر لفظ توفی پر بحث کی اور لغت اور قرآن اور حدیث کی رو سے ثابت کر دیا کہ جب اللہ تعالیٰ فاعل ہو اور انسان مفعول تو اس لفظ کے سوائے قبض روح اور موت کے اور کچھ معنے نہیں اور یہ بھی بالاعلان کہا که اگر مولوی ابراہیم صاحب اس قاعدہ کا خلاف ثابت کر دیں تو ایک ہزار روپیہ انعام ان کو دیا جائے گا خواہ پہلے ہی سے کسی بنک میں جمع کرالیں اس کے بعد توفی کے متعلق معتبر تفاسیر سے شہادتیں