حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 331
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم پیش کیں اور یہ بھی کہا کہ تفاسیر کے متناقض اقوال ہمارے لئے اور ہم پر حجت نہیں اس کے بعد مولوی ابراہیم صاحب کے دیگر متفرق دلائل کو اپنی لطیف جرح قدح سے باطل اور خلاف مقصود ثابت کیا۔اس تقریر کی بڑی خوبی یہ تھی کہ جن دلائل سے خصم پر جرح قدح کیا گیا وہی دلائل اپنے مقصود کے بھی مثبت تھے گویا خصم کی نفی اور اپنا اثبات تھا اور پھر مولوی ابراہیم صاحب کے اس سوال کا جواب دینا چاہا جو انہوں نے اپنے پرچہ میں زائد کر دیا تھا اور وہ نصوص قطعیہ قرآنیہ سے حضرت مسیح کے صلیب پر چڑھائے جانے کے ثبوت کا مطالبہ تھا۔جس کے جواب میں مولوی ابو یوسف صاحب نے اپنا تحریری مضمون ختم کر کے اپنا ایک مطبوعہ رسالہ جو خاص اسی سوال کا جواب تھا اور مولوی ابراہیم صاحب کے ہی مقابلہ میں لکھا ہوا تھا ماسٹر ہدایت اللہ صاحب سے ان کو اپنی جگہ بٹھا کر پڑھوانا شروع کیا اول تو پڑھنے سے پہلے ہی مولوی صاحبان کی طرف سے اعتراض شروع ہوا کہ یہ چھپا ہوا مضمون ہے اور یہ ہے اور وہ ہے پھر اس کے پڑھے جانے پر خفیف سے خفیف لفظ پر بھی مولوی صاحبان بگڑنے لگے اور خواہ مخواہ شور مچانا شروع کیا۔میر مجلس صاحب نے فرمایا کہ اس تحریر میں ابھی تک کوئی لفظ بھی خلاف تہذیب اور ہتک کا نہیں آیا۔آپ کیوں بات بات پر بگڑتے ہیں کیا آپ اپنی گل کی کارروائی بھول گئے ہیں شرم کرنی چاہیے۔اس پر مولوی کرم دین صاحب بڑی گستاخی سے بول اٹھے کہ آپ فریق ثانی کی طرف داری کرتے ہیں اس پر میر مجلس صاحب برافروختہ ہو گئے اور جو کچھ اس وقت مولوی کرم دین صاحب کی خاطر ہوئی اس کو ہم اس مقام پر ظاہر کرنا نہیں چاہتے اور پھر راجہ خان بہادر خان صاحب بھی کچھ بولے اور کچھ سراج الاخبار کے ایڈیٹر بھی بڑ بڑائے اور کچھ چوہدری غلام قادر صاحب نے بھی اپنے مولوی صاحبان کے بر خلاف غصہ ظاہر کیا۔غرض یہ سب لوگ اپنے مولویوں کے برخلاف بول رہے تھے۔جب دیکھا کہ حکام انتظام کو ناراضگی پیدا ہوگئی ہے تو پھر بمصداق شعر ے اگر شه روز را گوید شب است این کی بباید گفت اینک ماه و پروین ترجمہ۔اگر بادشاہ دن کو رات کہے تو وہ فورا کہہ اٹھے وہ رہے چاند ستارے۔