حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 329
حیات احمد ۳۲۹ جلد پنجم حصہ دوم ساتھ جماعت احمدیہ کے کئی ایک اشخاص تھے اور آپ کو تھامے ہوئے لے گئے تب آپ تحصیلدار صاحب کے پاس جا بیٹھے۔اس وقت منافق طبع مولوی کرم دین کچھ ہجو کے اشعار مولوی ابو یوسف صاحب کی شان میں پڑھ رہا تھا۔مولوی صاحب نے بڑی متانت سے اس کی بے حیائی کو نظر انداز کیا اور اس کی طرف سے اپنی دریا دلی سے عفو اور درگزر کو عمل میں لا کر اعراض کیا اور تحصیلدار صاحب سے کہا کہ میرا مضمون تیار ہے اگر آپ چاہیں تو اس وقت سن لیں میں تو خود سنا نہیں سکتا مگر دوسرا شخص سنا دے گا۔چنانچہ منشی احمد حسن صاحب رہتاسی احمدی کو مضمون پڑھنے کے لئے پیش کیا اور یہ وقت شام کے قریب تھا تب مولوی ابراہیم صاحب نے فرمایا کہ ہاں مضمون سن لیا جائے آپ کا مد عا صرف یہ تھا کہ وقت تو گزر ہی چکا ہے اس لئے مضمون کا کوئی اثر نہ ہوگا۔تحصیلدار صاحب نے اس امر کو ارکان مجلس پر پیش کیا تو انہوں نے با تفاق رائے یہ بات منظور کی کہ کل ۴ بجے ۲۸ راگست کو مولوی ابو یوسف صاحب کا مضمون سنا جائے اس پر مولوی ابراہیم صاحب نے چناں چنیں بہت کی کہ مجھے فرصت نہیں میں آج چلا جاؤں گا مگر تحصیلدار صاحب و دیگر ارکان مجلس نے آپ کی ایک نہ مانی اور آپ کو اس پر مجبور کیا کہ ضرور آپ کو مضمون سن کر جانا ہوگا۔اس کے بعد جلسہ برخاست ہوا۔جلسه ۲۸ اگست ۱۹۰۲ء ) آج وقت مقررہ سے پہلے اس قدر مخلوق خدا کا ہجوم پایا گیا کہ میدان عید گاہ پر ہو گیا اور مضافات کے لوگ بھی کثرت سے جمع ہو گئے۔مولوی ابو یوسف صاحب کے مضمون کو سننے کے لئے لوگوں میں حد سے زیادہ خواہش اور آرزو پائی جاتی تھی۔ٹھیک ۴ بجے حکام انتظام اور پولیس کانسٹیبلان بھی آپہنچے اور مولوی ابو یوسف صاحب معہ جماعت احمد یہ جلسہ میں تشریف لے آئے اور بحکم میر مجلس صاحب ممبر پر بیٹھ گئے اور مضمون پڑھنا شروع کر دیا شروع میں بوجہ ضعف اور دھیمی آواز اور آہستگی سے مضمون پڑھنے لگے مگر رفتہ رفتہ آواز میں بلندی اور تلفظ میں برجستگی ہوتی گئی اور ضعف بیماری کا گل اثر جاتارہا غرض آواز کی خوبی اور الفاظ کی نشستگی اور مضامین کی ترتیب اور معانی کی دلچسپی اور عبارت کی سلاست اور استدلالات کی قوت اور استشہادات کی ثقاہت ور خصم کے دلائل پر قدح وجرح کی مضبوطی اور مضمون خواں کی متانت اور وقار نے لوگوں کے دلوں اور