حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 328
حیات احمد ۳۲۸ جلد پنجم حصہ دوم اس وقت بخار نہیں آپ کا بدن سرد ہے اور پسینہ آیا ہوا ہے میں ڈاکٹر صاحب کو لاتا ہوں اور فیس بھی دوں گا۔اگر مولوی صاحب کو بخار بھی ہوا تو (۱۰۰) روپے حرجانہ دوں گا۔تب ڈاکٹر شیخ عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ آپ ضرور ڈاکٹر صاحب کو لائیں اور مولوی صاحب کا ملا حظہ کرائیں اور کچھ جیب سے بھی نکالیں اور جس طرح پر چاہیں بیماری کی تصدیق کرائیں اس ردو بدل کے بعد دوبارہ میاں دیوی سنگھ صاحب ڈ پٹی انسپکٹر نے فرمایا کہ مولوی صاحب کوضرور بخار ہے اور ان کی حالت کہہ رہی ہے کہ وہ اس وقت سخت نا تواں ہیں مجبور نہیں کرنا چاہیے۔تب یہ لوگ جلسہ میں گئے اور سب سے پہلے جیسا کہ سراج الاخبار بیان کرتا ہے چودھری غلام قادر صاحب نے خلاف بیانی کا ثواب لیا اور پھر شاید راجہ خان بہادر خاں صاحب نے بھی ان کی تائید کر کے اپنے عقبی کو سنوارا ہاں میاں دیوی سنگھ صاحب ڈپٹی انسپکٹر نے جو کچھ دیکھا تھا صاف صاف بیان کر دیا اسی لئے سراج الاخبار نے ان کی شہادت کو اپنے حق میں غیر مفید سمجھ کر اپنے بیان میں درج نہیں کیا اور چودھری غلام قادر صاحب مع ڈاکٹر ایک سوروپیہ حرجانہ کے ابھی تک تشریف لا رہے ہیں افسوس کہ ان کی فضول گوئی کا نتیجہ کیا ہوا۔اس کے بعد ہر دو مولوی صاحبان یعنی ابراهیم و کرم دین نوبت به نوبت ممبر پر چڑھے اور اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر وہ وہ ہفوات اور ہزلیات اور الزامات اور خرافات منہ سے نکالے کہ الامان ! الامان ! ان کی بکواس کے سبب سے کوئی جماعت احمدیہ کا ممبر وہاں پر نہ بیٹھ سکا کیونکہ حضرت اقدس امام الزمان علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی پاک جماعت کی نسبت اہانت اور تحقیر کا کوئی دقیقہ اس وقت مولوی صاحبان نے اٹھا نہ رکھا تھا اور یہ بھی شرم نہ کی کہ تعلیم یافتہ لوگ اور خصوصاًحکام انتظام ہماری نسبت کیا رائے لگائیں گے اور ہماری تہذیب اور شائستگی پر کس قدر نفرت کریں گے۔غرض مولوی صاحبان ایک ہی دھن پر لگے رہے اور نمبر پر چڑھ کر جہاں قَالَ اللہ اور قَالَ الرَّسُول کا ذکر ہونا چاہیے تھا، ہجو فتیح اور کذب صریح کے گیت گاتے اور قصیدے پڑھتے رہے اور اپنی طرف سے اس ایک طرفہ کارروائی پر اپنی ظفر کا ڈنکا بجا دیا ادھر مولوی ابو یوسف صاحب نے یہ صورتحال سن کر اپنی غیرت اور حمیت دینی کو کام فرمایا اور اسی ضعف و ناتوانی کی حالت میں افتان و خیز اں مجلس میں جا پہنچے آپ کے