حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 311 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 311

حیات احمد ۳۱۱ جلد پنجم حصہ دوم دوسرے خط کی نقل۔مکرمی و عظمی و مولائی جناب مولوی عبدالکریم صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اما بعد ! خاکسار خیریت سے ہے آپ کی خیر بیت مطلوب میں آنے سے کچھ انکار نہیں کرتا لیکن کتا بیں نہیں دیتے جن پر نوٹ ہیں یعنی شمس بازغہ اور اعجاز اسیح ، اور سیف چشتیائی میں جتنی سخت زبانی ہے اکثر محمد حسن کی ہے اسی وجہ سے اس کی موت کا بُر انمونہ ہوا کہ تین دن آواز کرتا رہا اور اس کے منہ سے کلمہ طیبہ ہرگز جاری نہ ہوا جو لوگ پاس تھے تو بہ تو بہ کرتے تھے قریبیوں کے سوا سب لوگ اس وقت اٹھائے گئے تھے گویا اُس کو سزا اس جگہ بھی مل گئی قیامت میں جو ہو سو ہوگا۔اب میرے خط لکھنے سے گولڑی خود اقراری ہے۔چنانچہ یہ کارڈ گولڑی کے ہاتھ کا خود لکھا ہوا ہے جو اس نے مولوی کرم دین صاحب کو لکھا ہے۔غرض گولڑی نے محمد حسن کے والد کو خود تاکید کی ہے ان کو کتا ہیں مت دکھاؤ یعنی اس راقم خاکسار کو۔گولڑی کارڈ میں لکھتا ہے کہ مولوی محمد حسن کی اجازت سے لکھا گیا ہے مگر یہ اعتراف راستبازی کے تقاضا سے نہیں بلکہ اس لئے کہ یہ بھید ہم پرکھل گیا۔اس لئے ناچار شرمندہ ہوکر اقراری ہوا۔دوسرے خط میں گولڑی کا کارڈ ہے جو اس نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر روانہ کیا ہے کہ ملاحظہ ہو۔خاکسار شہاب الدین از بھیں مولوی کرم دین صاحب کے خط کی نقل مکرمنا حضرت اقدس مرزا صاحب مَدَّ ظِلُّهُ الْعَالِي السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبركاته میں ایک عرصہ سے آپ کی کتابیں دیکھا کرتا ہوں مجھے آپ کے کلام سے تعشق ہے۔میں نے کئی دفعہ عالم رؤیا میں بھی آپ کی نسبت اچھے واقعات دیکھے ہیں۔اکثر آپ کے مخالفین سے بھی جھگڑا کرتا ہوں۔اگر چہ مجھے ابھی تک جناب سے سلسلہ پیری و مریدی نہیں ہے کیونکہ اس بارہ میں میرے خیال میں بہت احتیاط درکار ہے جب تک بالمشافہ اطمینان نہ کیا جاوے بیعت کرنا مناسب