حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 310
حیات احمد ۳۱۰ جلد پنجم حصہ دوم پہلے خط کی نقل۔مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت اقدس جناب مرزا جی صاحب دَامَ بَرَكَاتُكُمْ وَ فيُوضُكُمُ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته اما بعد۔آپ کا خط رجسٹری شدہ آیا دل غم ناک کو تازہ کیا۔روئداد معلوم ہوئی۔حال یہ ہے کہ محمد حس کا مسودہ تو خاکسار کو نہیں دکھایا گیا کیونکہ اس کے مرنے کے بعد اس کی کتابیں اور سب کاغذات جمع کر کے مقفل کئے گئے ہیں۔شمس بازغہ اور اعجاز اسی پر جو مذکور نے نوٹ کئے تھے وہ دیکھے ہیں اور وہی نوٹ گولڑی ظالم نے کتابیں منگوا کر درج کر دیئے ہیں ، اپنی لیاقت سے کچھ نہیں لکھا اب محمد حسن کا والد وغیرہ میرے تو دشمن جانی بن گئے ہیں کتا ہیں تو بجائے خود ایک ورقہ نہیں دکھاتے پہلے بھی دیکھنے کا ذریعہ یہ ہوا تھا کہ جب گولڑی نے کتا بیں یعنی شمس بازغہ اور اعجاز مسیح محمد حسن کے والد سے منگوا ئیں اور فارغ ہو کر واپس روانہ کیں اور چونکہ وہ حامل کتب اجنبی تھا اس لئے بھول کر میرے پاس مسجد میں آیا اور کہنے لگا کہ مولوی محمد حسن کا گھر کدھر ہے میں نے پوچھا کہ کیا کام ہے۔کہنے لگا کہ مہر علی شاہ نے مجھ کو کتا بیں دے کر روانہ کیا ہے کہ مولوی محمدحسن کے والد کو یہ کتا بیں شمس بازغہ اور اعجاز اسیح دے آ، پھر کتابیں لے کر دیکھیں تو ہر صفحہ، ہر سطر پر نوٹ لکھے ہوئے تھے۔میرے پاس سیف چشتیائی بھی موجود تھی عبارت کو ملایا تو بعینہ وہ عبارت تھی آپ کا حکم منظور لیکن مولوی محمد حسن کا والد کتا بیں نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ میرے رو برو بے شک دیکھ لومگر مہلت کے واسطے نہیں دیتا خاکسار معذور ہے کیا کرے۔دوسری مجھ سے غلطی ہوگئی کہ ایک خط گولڑی کو بھی لکھا کہ جو کچھ حمد حسن کے نوٹ تھے وہی درج کر دیئے۔اس واسطے گولڑی نے محمد حسن کے والد کو لکھا ہے کہ ان کو کتا ہیں مت دکھاو۔کیونکہ یہ شخص ہمارا مخالف ہے۔اب مشکل بنی کہ محمد حسن کا والد گولڑی کا مرید ہے اور اس کے کہنے پر چلتا ہے مجھ کو نہایت افسوس ہے کہ میں نے گولڑی کو کیوں خط لکھا جس کے سبب سے سب میرے دشمن بن گئے۔براہ عنایت خاکسار کو معاف فرما دیں کیونکہ خالی میرا آنا مفت کا خرچ ہے اور کتا ہیں وہ نہیں دیتے۔خاکسار شہاب الدین از مقام بھیں تحصیل چکوال