حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 312
حیات احمد ۳۱۲ جلد پنجم حصہ دوم نہیں ہوتا لیکن تاہم غائبانہ مجھے جناب سے محبت ہے میں نے چار پانچ یوم کا عرصہ ہوا ہے کہ جناب کو خواب میں دیکھا ہے آپ نے مجھے مبارکباد فرمائی ہے اور کچھ شرینی بھی عنایت کی ہے اور اس وقت میرے دل میں دو باتیں تھیں جن کو آپ نے بیان کر دیا ہے اور اسی خواب کے عالم میں میں یہ کہتا تھا کہ آپ کے کشف کا تو میں قائل ہو گیا ہوں وَ اللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ بعض باتوں کی سمجھ بھی نہیں آتی ہے اس واسطے میرا خیال ابھی تک جناب کی نسبت ایک رحمہ نہیں ہے گو آپ کے صلاح و تورع کا میں قائل ہوں۔میں نے اگلے روز آپ کی کتاب سُرمہ چشم آریہ کے ابتدا میں چند اشعار فارسی اور چندار دو پڑھے ہیں اور وہ پڑھ کر مجھے رونا آتا تھا اور کہتا تھا کہ کذابوں کے کلام میں کبھی بھی ایسا درد نہیں ہوتا۔کل میرے عزیز دوست میاں شہاب الدین طالب علم کے ذریعہ سے مجھے ایک خط جناب مولوی عبد الکریم صاحب کی طرف سے ملا جس میں پیر صاحب گولڑی کی سیف چشتیائی کی نسبت ذکر تھا۔میاں شہاب الدین کو خاکسار نے ہی اس امر کی اطلاع دی تھی کہ پیر صاحب کی کتاب میں اکثر حصہ مولوی محمد حسن صاحب کے اُن نوٹوں کا ہے جو مرحوم نے کتاب اعجاز مسیح اور شمس بازغہ کے حواشی پر اپنے خیالات لکھے تھے۔وہ دونوں کتابیں پیر صاحب نے مجھ سے منگوائی تھیں اور اب واپس آگئیں ہیں مقابلہ کرنے سے وہ نوٹ باصله درج کتاب پائے گئے یہ ایک نہایت سارقانہ کارروائی ہے کہ ایک فوت شدہ شخص کے خیالات لکھ کر اپنی طرف منسوب کر لئے اور اس کا نام تک نہ لیا اور طرفہ یہ کہ بعض وہ عیوب جو وہ آپ کے کلام کی نسبت پکڑتے ہیں پیر صاحب کی کتاب میں خود اس کی نظیریں موجود ہیں۔وہ دونوں کتابیں چونکہ مولوی محمد حسن صاحب کے باپ کی تحویل میں ہیں اس واسطے جناب کی خدمت میں وہ کتا بیں بھیجنا مشکل ہے کیونکہ اُن کا خیال آپ کے خلاف میں ہے اور وہ کبھی اس امر کی اجازت نہیں دے سکتے ہاں یہ ہو سکے گا کہ ان نوٹوں کو بجنسہ نقل کر کے آپ کے پاس روانہ کیا جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی خاص آدمی جناب کی جماعت کا خود دیکھ جائے لیکن