حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 309
حیات احمد ۳۰۹ جلد پنجم حصہ دوم کیا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ منتقم حقیقی نے وہ نوٹ بجنسہ حضرت مسیح موعود کے پاس بھجوا دیئے بحالیکہ وہ سخت مخالف گروپ کے ہاتھ میں تھے۔پانچواں نشان پیر گولڑی کو عہد شکن۔مضمون چور۔جھوٹ بولنے والا۔عربی تفسیر نویسی سے بے بہرہ ثابت کر دیا۔یہ خدا کے نشان ہیں پس اے قوم خدا را تو ان کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھ اور سن بنگر اے قوم نشانہائے خداوند قدیر چشم بکشا که بر چشم نشانی است کبیر اب ہم اس مضمون پر لمبی بحث کرنا نہیں چاہتے اور وہ ثبوت پیش کرتے ہیں۔جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ گولڑی نے سیف چشتیائی جولکھی ہے وہ اس کی اپنی محنت اور دماغ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک کشتہ اعجاز مسیح کے مسودوں کی چوری ہے۔جس سے اس کی محنت اور دماغ سوزی کی متاع کو چرایا گیا ہے۔ہماری تو یہ رائے ہے مضمون کے چور کو بھی حوالات چاہیے پیر گولڑی اور اس کے طرفداراب بتائیں کہ ان کی کیا رائے ہے۔وہ ثبوت جس سے ثابت ہوا کہ گولڑی مضمون چور ہے نقل خط میاں شہاب الدین ساکن بھیں۔پہلے ہم صفائی بیان کے لئے لکھنا چاہتے ہیں کہ میاں شہاب جن کا نام عنوان میں درج ہے یہ میاں محمد حسن متوفی کے دوست ہیں اور علاوہ اس کے یہ اُس بد قسمت وفات یافتہ کے ہمسایہ بھی ہیں اور اُس کے اسرار سے واقف اور انہی کی کوشش سے پیر مہر علی شاہ کے سرقہ کا مقدمہ برآمد ہوا اور بڑی صفائی سے ثابت ہو گیا کہ اُس کی کتاب سیف چشتیائی مال مسروقہ ہے اور اس میں مہر علی کے علم اور عقل کا کچھ بھی دخل نہیں اور بجز اس کے کہ وہ اس کا رروائی سے نہ صرف جرم سرقہ کا مرتکب ہوا بلکہ اس نے اس شیخی کو حاصل کرنے کے لئے بہت قابل شرم جھوٹ بولا اور اپنی کتاب سیف چشتیائی میں اُس مردہ بد قسمت کا نام تک نہیں لیا اور بڑے زور آور دعوئی سے کہا کہ اس کتاب کا میں مؤلف ہوں چنا نچ نقل خطوط یہ ہے۔ترجمہ۔اے قوم! خداوند قدیر کے نشانوں کو دیکھ اور آنکھیں کھول کہ آنکھ کے لئے ایک بہت بڑا نشان ہے۔