حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 308
حیات احمد ۳۰۸ جلد پنجم حصہ دوم حضرت مسیح موعود کی تائید کا ایک نشان ہے۔اور پھر جیسا کہ تیسر انشان یہ ہے کہ الہام اِنِّی مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ لِهَانَتَكَ پورا ہوا سیف چشتیائی ( طنبور چشتیائی) میں اس مضمون چور فقیر نے بڑی دلیری اور گستاخی کے ساتھ خدا کے صادق اور برگزیز دہ مسیح موعود پر سرقہ کا الزام لگایا تھا۔سے وہ الزام ان کو دیتے تھے قصورا پنا نکل آیا اور اس سے غرض یہ تھی کہ تا خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نشان کی بے حرمتی اور بے وقری کرے مگر خدا نے اپنے وعدہ کے موافق اس رنگ میں ایک اور نشان اسی پر پورا کر دکھایا کہ محمد حسن نے کشتہ اعجاز مسیح کا سارا مسودہ اپنے نام منسوب کر لیا اور اس کا کہیں ذکر تک نہیں کیا۔اب دیکھو کہ کیا یہ خدا کا زبردست نشان ہے یا نہیں کہ حضرت مسیح موعود کی طرف دو چار فقروں کا سرقہ منسوب کرنے کے ساتھ ہی خود پوری کتاب کا سارق ثابت ہو گیا اور نہ صرف چور بلکہ کذاب بھی کیوں کہ اس ساری کتاب میں یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ مسودہ میں نے محمد حسن ساکن بھیں کے نوٹوں سے لیا ہے اس سے بڑھ کر اس مضمون چور درویش کی رسوائی کیا ہوگی۔پھر چوتھا نشان یہ ہے کہ اعجاز لمسیح کے صفحہ ۱۹۹ میں حضرت مسیح موعود کی یہ دعا درج ہے ربِّ إِن كُنتَ تَعْلَمُ أَنَّ أَعْدَائِي هُمُ الصَّادِقُونَ الْمُخْلِصُونَ فَأَهْلِكْنِي كَمَا تُهْلَكُ الْكَذَّابُونَ۔وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّى مِنْكَ وَمِنْ حَضْرَتِكَ۔فَقُمُ لِنُصُرَ تِی۔یعنی اے میرے رب ! اگر تو جانتا ہے کہ میرے دشمن بچے ہیں اور مخلص ہیں پس تو مجھے ہلاک کر جیسا کہ جھوٹے ہلاک کئے جاتے ہیں اور اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے ہوں تو دشمن کے مقابلہ پر میری مدد کے لئے کھڑا ہو جا یعنی میرے دشمن کو ہلاک کر۔اب صاف ظاہر ہے کہ حضرت حجتہ اللہ کی تائید اور نصرت کس زور وشور سے ہو رہی ہے اور نصرتوں کو شاید ہمارے مخالف نہ دیکھیں مگر یہ کھلا کھلا نشان نصرت کا تو وہ دیکھ سکتے ہیں کہ محمد حسن مقابلہ کے لئے اٹھا اور اس دعا کا نشانہ ہوکر مارا گیا گولڑی نے ان نوٹوں کو شائع کر کے سرقہ کا الزام لگا یا خود ساری کتاب کے سارق ہونے کے الزام میں پکڑا گیا اور پھر اس سے سے بڑھ کر اور نصرت