حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 307
حیات احمد ۳۰۷ جلد پنجم حصہ دوم بہر حال گولڑی صاحب کی اس تمام کا روائی سے خدا تعالیٰ کے عظیم الشان نشان ثابت ہوئے ہیں۔اول یہ کہ اعجاز مسیح کے ٹائیکل پیج کی پیش گوئی وَمَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَ تَنَمَّرَ فَسَوْفَ يَرَى أَنَّهُ تَنَدَّمَ وَ تَذَمَّر یعنی جو شخص اعجاز امسیح کا جواب دینے کو کھڑا ہوگا اور پلنگ خوئی دکھائے گا۔وہ ضرور پشیمان ہوگا اور ناکام و نامراد مر جائے گا ، کے موافق مولوی محمد حسن ساکن بھیں کا نا مراد اور نا کام رہ کر وفات پا جانا بھی سیف چشتیائی کے ذریعہ ثابت ہوا۔کیوں کہ جب محمد حسن کے نوٹ ملے تو معلوم ہوا کہ اس نے مقابلہ کے لیے قلم اٹھایا اور ارادہ کیا تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے اس کو نا مرا درکھا یہ چھوٹی سے بات نہیں بلکہ عظیم الشان نشان ہے جو خدا کے برگزیدہ مسیح موعود کے ہاتھ پر ظاہر ہوا۔کیوں کہ محمدحسن نے جب اعجاز اسیح کے مقابلہ کا ارادہ کیا تو أَنَّهُ تَنَدَّمَ وَ تَدَمَّرَ کے موافق خدا تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر دیا۔اب غور طلب یہ امر ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود اس دعوئی میں معاذ اللہ جھوٹے تھے اور یہ پیشگوئی پناہ بخدا منجانب اللہ نہ تھی تو محمد حسن نے جس کام کو شروع کیا تھا پھر وہ عام نفع رسانی اور خدا کی نصرت کا کام ہونا چاہیے لہذا ضروری تھا کہ عام نفع رساں وجود ہونے کے سبب سے حسب وعدہ الہی وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمُكُثُ فِي الْأَرْضِ اور اِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرُكُمْ وَيُثَبِّتُ اَقْدَا مَكُمُ محمد حسن کی پوری تائید ہوتی اور وہ اپنی اس تالیف میں بامراد ہو جا تا مگر خدا نے اس کا فیصلہ کر کے ثابت کر دی کہ وہ ناف نہ تھا اور اعجاز مسیح کی پیشنگوئی سچی نکلی۔دوسرانشان یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے محمد حسن کی تحریروں کو ثبوت کے لئے قائم رکھا۔درآنحالیکہ وہ پیر گولڑی کے ہاتھ میں جا چکی تھی اور پیر گولڑی نے ان نوٹوں کو تر تیب دے کر اپنے نام سے شائع کیا۔اور یہ اعتراف کہیں نہیں کیا کہ میں نے محمد حسن کی تحریروں کو شائع کیا ہے۔اگر یہ ذکر کر دیتے تو شاید گولڑی کے ہم خیال مسلمان (برائے نام) کم از کم اس کشتہ اعجاز امسیح کے لئے کوئی دعا ہی کر دیتے۔بہر حال گولڑی کا ان تحریروں کو اپنی پردہ پوشی کے لئے ضائع نہ کرنا اور قائم رکھنا یہ بھی