حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 306
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم گیا مگر گولڑی اس خیال میں رہا کہ کسی نہ کسی طرح اس داغ ندامت کو اپنے فقر وعلم کے چہرہ سے دھو دے۔یہ کہنا کہ اعجاز المسیح کے مقابلہ کے لئے کوشش نہیں کی بالکل لغو اور فضول بات ہے اس نے جان توڑ کوشش کی اور جیسا کہ اس واقعہ سے جو ہم ذیل میں لکھیں گے پایا جاتا ہے اس نے ہر چند چاہا کہ کوئی اسے ملے جو اس ندامت کو دھونے میں اس کا مددگار ہومگر خدائے قادر کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔؟ اعجاز المسیح کا مقابلہ نہ ہونا تھا نہ ہوا۔آخر مہر علی شاہ نے اس ندامت کو دور کرنے کی ایک تجویز سوچی اور وہ یہ کہ اسے معلوم ہو گیا کہ مولوی محمد حسن بھیں نے اعجاز المسیح پر کچھ نوٹ لکھے ہیں اس لئے وہ اس فکر میں ہوا کہ ان نوٹوں کو حاصل کیا جاوے۔محمد حسن کی زندگی میں تو وہ نوٹ اس کو نہ مل سکے۔اُس کے مرنے کے بعد خدا جانے کن حیلوں اور تدابیر سے اس کی بیوہ سے ان نوٹوں کو حاصل کر لیا۔اور ان کو ہی ترتیب دے کر سیف چشتیائی کے نام سے ایک رسالہ چھاپ کر شائع کر دیا۔جو اس نادان فقیر کی پردہ دری کا ذریعہ ہو گیا۔اور پھر تعجب کی بات ہے کہ ساری کتاب اس کے ہی نوٹوں کی نقل ہے جو صاف اور واضح الفاظ میں چوری ہے اور حضرت حجتہ اللہ کے چند فقرات کو جو تو ارد کے طور پر آپ کے کلام میں آئے ہیں سرقہ قرار دیا۔خدا کی شان ہے کہ جو الزام حضرت مسیح موعود کو دیتا تھا خود ہی اس الزام کے نیچے آگیا۔سچ ہے اِنِّی مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اهَانَتَكَ مَیں اس کی اہانت کرنے والا ہوں جس نے تیری اہانت کا ارادہ کیا۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۱) اس امر کا ثبوت ہم واضح طور پر ابھی پیش کریں مگر اس سے پہلے ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ سیف چشتیائی پیر جی کے حق میں بہت ہی مضر ثابت ہوئی جس نے اس کی خیانت اور سرقہ کا راز طشت از بام کر دیا ہم نہیں کہہ سکتے کہ پیر صاحب ترک حیا سے کام لیں گے یا اپنی غلطی کا اعتراف کر کے نیک نیتی کا یوں دیں گے کہ وہ مسیح موعود کے قدموں میں گر کر کہیں گے۔يَا وَلِيُّ اللَّهِ كُنتُ لَا أَعْرِفُكَ