حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 305
حیات احمد ۳۰۵ جلد پنجم حصہ دوم پیر گولڑی اور اُس کے رفقاء کی اس عہد شکنی کے ضمن میں ہم اس امر کا تذکرہ ضروری سمجھتے ہیں کہ حضرت اقدس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام آتھم میں آئندہ کے لئے مباحثہ نہ کرنے کا اقرار شائع کر دیا تھا۔چنانچہ اس آدم آخری کو آدم اول کے دشمن کے مثیلوں نے بار ہا چاہا کہ اس منع کئے ہوئے درخت (الشَّجَرُ ) کا پھل کھالے مگر کیسی عالی ہمتی اور استقلال اور وفاء عہد ہے کہ گالیاں سننی منظور کیں۔قسم قسم کے نام رکھوا لینے پسند کئے مگر نا پسند کیا تو خدا کا عہد توڑنا۔(اے خدا کے مسیح صادق تجھ پر سلام ) تو نے سچ کہا ہے۔و آں روز خود مباد کہ عہد تو بشکنم پبلک اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ لاہور میں جب گولڑی کو اعجازی تفسیر نویسی کی دعوت دی گئی تھی تو اس حیلہ جو پیر نے اپنے بچاؤ اور پردہ پوشی کے لئے یہ حیلہ تجویز کیا تھا کہ تفسیر سے پہلے مباحثہ کی شرط لگا دی تھی اور اصل غرض یہ تھی کہ اگر مباحثہ منظور کریں گے تو خلاف عہد کرنے والے قرار دیئے جائیں گے اور اگر عہد نبھا نہیں سکیں گے تو مباحثہ میں نہ آئیں گے اور یوں ہماری پردہ پوشی ہوگی۔خدا کے صادق موعود نے وفاء عہد کو مقدم کیا اور اپنی شرائط کے موافق تفسیر نویسی کی دعوت اور مقابلہ کے لئے طیار ر ہے۔جب پیر گولڑی نے حق کو مشتبہ کرنا چاہا تو اعجاز المسیح کے ذریعہ اس کی قلعی کھول دی۔اعجاز المسیح ایک ایسا حربہ تھا جس نے گولڑی کی خانہ ساز لیاقت کے بت کو پاش پاش کر دیا اور عام طور پر معلوم ہو گیا کہ گولڑی محض ایک گوسالہ ہے اور قرآن دانی اور عربیت سے اسے کوئی بہرہ نہیں دیا گیا اور اگر کچھ دیا گیا ہوتا تو وہ اس میدان میں کیوں پیچھے رہ جاتا جب کہ ۷ دن کی میعاد تھی اور پھر گھر میں بیٹھ کر آرام سے لکھنا تھا یا لکھانا تھا اور یہ بھی عام اجازت تھی کہ وہ جس سے چاہے مدد لے مگر ہندوستان ، پنجاب میں ایک بھی عالم ایسا نہ نکلا جو اعجاز المسیح کا مقابلہ کرتا اور کچھ اناپ شناپ بھی عربی میں لکھ کر دکھا دیتا؟ اعــجــــاز الـمـسـيـح ابد الآباد تک خدا تعالیٰ کا ایک زندہ نشان ہے ان لوگوں کے لئے جو اہل دل ہیں۔اعجاز المسیح نے گولڑی کی گلیم درویشی کو کچھ ایساپارہ پارہ کیا کہ اس کا رفو تواب ناممکن ہی ہو