حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 257 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 257

حیات احمد ۲۵۷ جلد پنجم حصہ دوم حضرت امام الزمان کا ایک محاکمہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اوصاف میں حضرت سید المرسلین خاتم النبین ہے نے جو پیشگوئی فرمائی ہے اس میں آپ کو اِمَامًا حَكَمًا عَدْلًا فرمایا کہ وہ امام ہوگا اور دین کے اخلاقی اور نزاعی امور میں فیصلہ کرنے والا ہوگا اور وہ فیصلہ عدل پر موقوف ہوگا۔اس باب میں حضرت اقدس کے متعدد فیصلے مختلف نزاعات میں موجود ہیں خود آپ کا دعوی بھی ایک اختلافی مسئلہ کا صحیح فیصلہ ہے اور حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی ولادت اور موت اور آمد ثانی کے ضمن میں جو نزاعات ہیں وہ بھی آپ نے فیصلہ کیں۔گواوائل میں وفات مسیح پر بڑے جھگڑے اور مباحثے ہوئے لیکن آخر یہ مان لیا گیا کہ مسیح ابن مریم نبی اللہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت جاریہ کے موافق فوت ہو گیا۔ایسا ہی مہدی اور مسیح موعود کے متعلق بھی آپ ہی کا فیصلہ صحیح ثابت ہوا کہ آنے والا ایک ہی فرد ہے اور وہ اپنے دو قسم کے مناصب کے لحاظ سے مہدی اور مسیح کہلائے گا۔غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق اختلافات کے صحیح فیصلہ کے متعلق بشارت دی تھی۔آپ کے عصر سعادت میں ایک نیا فتنہ کھڑا ہوا۔جوخود مسلمانوں کے اندر پیدا ہوا۔مولوی عبداللہ چکڑالوی نے اہلِ قرآن ہونے کا دعوی کیا۔جیسے ایک زمانہ میں خلقِ قرآن کے نام سے ایک فتنہ پیدا ہوا تھا۔اس فتنہ کی بنیا د لا ہور میں رکھی گئی اور لاہور کی مسجد چینیاں والی جو ایک زمانہ میں مولوی ابو سعید محمدحسین صاحب کا گڑھ تھی ان کے وہاں سے نکالے جانے کے کچھ عرصہ بعد مولوی عبداللہ چکڑالوی کا ہیڈ کوارٹر بنا اور میاں محمد چٹو جو ایک زمانہ میں بڑے اہل حدیث تھے اور کچھ عرصہ احمدی بھی رہے۔مولوی چکڑالوی کے خیالات سے متاثر ہوئے اور مولوی محمد حسین صاحب اور چکڑالوی کے درمیان ایک مباحثہ ہوا۔مباحثہ کی تحریرات پر حضرت اقدس نے ایک محاکمہ تحریر فرمایا۔یہ فتنہ چونکہ آجکل بھی کراچی میں اپنا مرکز قائم کر چکا ہے اس لئے حیات احمد کے ضمنی واقعات میں یہ محاکمہ آ جانا بھی ضروری ہے اس لئے میں اسے یہاں درج کر رہا ہوں۔