حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 258 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 258

حیات احمد ۲۵۸ جلد پنجم حصہ دوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبد اللہ صاحب چکڑالوی کے مباحثہ پر مسیح موعود حکم ربانی کا ریویو اور اپنی جماعت کے لئے ایک نصیحت فریقین کی تحریرات سے معلوم ہوا کہ مباحثہ مندرجہ عنوان کے پیش آنے کی وجہ یہ تھی کہ مولوی عبداللہ صاحب احادیث نبویہ کو محض رڈی کی طرح خیال کرتے ہیں اور ایسے الفاظ منہ پر لاتے ہیں جن کا ذکر کرنا بھی سُوء ادب میں داخل ہے اور مولوی محمد حسین صاحب نے ان کے مقابل پر یہ حجت پیش کی تھی کہ اگر احادیث ایسی ہی ردی اور لغو اور نا قابل اعتبار ہیں تو اس سے اکثر حصے عبادات اور مسائل فقہ کے باطل ہو جائیں گے کیونکہ احکام قرآنی کی تفاصیل کا پتہ حدیث کے ذریعہ سے ہی ملتا ہے ورنہ اگر صرف قرآن مجید کو ہی کافی سمجھا جائے تو پھر محض قرآن کے رو سے اس پر کیا دلیل ہے کہ فریضہ صبح کی دو رکعت اور مغرب کی تین رکعت اور باقی تین نمازیں چار چار رکعت ہیں۔یہ اعتراض ایک زبر دست پیرا یہ میں ہے گو اپنے اندر ایک غلطی رکھتا ہے یہی وجہ تھی کہ اس اعتراض کا مولوی عبداللہ صاحب نے کوئی شافی جواب نہیں دیا۔محض فضول باتیں ہیں جو لکھنے کے بھی لائق نہیں۔ہاں اس اعتراض کا نتیجہ آخر کار یہ ہوا کہ مولوی عبداللہ صاحب کو ایک نئی نماز بنانی پڑی جس کا جمیع اسلام کے فرقوں میں نام ونشان نہیں پایا جاتا۔انہوں نے التحیات اور درود اور دیگر تمام ادعیہ ماثورہ جونماز میں پڑھی جاتی ہیں درمیان سے اڑادیں اور ان کی جگہ صرف قرآنی آیتیں رکھ دیں ایسا ہی اور بہت کچھ نماز میں تبدیلی کی جس کے ذکر کی اس جگہ ضرورت نہیں اور شاید مسائل حج وزکوۃ وغیرہ میں بھی تبدیلی کی ہوگی۔لیکن کیا یہ سچ ہے کہ حدیثیں ایسی ہی رڈی اور لغو ہیں جیسا کہ مولوی عبداللہ صاحب نے سمجھا ہے معاذ اللہ ہر گز نہیں۔