حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 249
حیات احمد ۲۴۹ جلد پنجم حصہ دوم (۳) حضرت مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی (۴) مکرم مولوی محمد عبداللہ صاحب کشمیری (۵) راقم الحروف خاکسار یعقوب علی عرفانی (جو الْحَمُدُ لِلَّهِ اس وقت تک زندہ ہے) اس وفد نے ندوہ کے جلسہ پر کیا کارروائی کی وہ بڑی طویل ہے اور الحکم کے کئی نمبروں میں اس کی تفصیل دی ہے۔یہاں اس کے بعض حصے درج کر دیئے جاتے ہیں۔ہماری روانگی ۹ اکتوبر کی صبح کو ہمارا قافلہ بصدارت حضرت مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب امرتسر کو روانہ ہوا اور ابجے کے بعد ہم امرتسر اسٹیشن پر پہنچے اور ہمارے امیر وغیرہ کے ایماء اور مشورہ سے یہ قرار پایا کہ سب سے اول یہ کام کرنا چاہیے کہ حافظ محمد یوسف صاحب اور سیکرٹری ندوۃ العلماء کو دو رجسٹری خط روانہ کئے جاویں چنانچہ مندرجہ ذیل دو خط امرتسر کے بڑے ڈاک خانہ میں رجسٹری کرا کے بھیج دیئے گئے۔( پہلا خط سیکرٹری ندوہ کے نام) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّی - بخدمت جناب سیکرٹری صاحب ندوة العلماء السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میں اس رجسٹری شدہ چٹھی کے ذریعہ آپ کو ضروری امر کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں۔حافظ محمد یوسف صاحب نے بذریعہ ایک اشتہار ندوۃ العلماء کے اجلاس پر ہمیں فیصلہ کے لئے مدعو کیا ہے اور ایسا ہی مولوی احمد حسین ایڈیٹر شحنہ ہند میرٹھ نے بذریعہ خط کے ہمیں مدعو کیا ہے۔ندوۃ العلماء کے جلسہ پر آ کر علماء ندوہ کے سامنے مسائل متنازعہ کا فیصلہ کیا جاوے مگر ندوہ کی طرف سے کوئی خاص چٹھی ہمیں اس امر کے متعلق نہیں ملی کہ انہوں نے حافظ محمد یوسف کے اشتہار کے موافق یا شحنہ ہند کے ایڈیٹر کے خط کے مطابق اس معاملہ میں فیصلہ کرنے کا کوئی ریز ولیوشن پاس کیا ہے یا نہیں اور وہ اس کام کے لئے تیار ہے یا نہیں ؟ اس لئے آپ کو اس ضروری رجسٹرڈ چٹھی کے ذریعہ تکلیف دی جاتی ہے کہ آپ بواپسی ڈاک اطلاع دیں کہ ندوہ کے کون سے علماء اس کام