حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 248 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 248

حیات احمد ۲۴۸ جلد پنجم حصہ دوم ندوۃ العلماء اور رسل حضرت مسیح موعود اس اشتہار کے پہنچنے پر جو ۲ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو حضرت اقدس کو ملا اور آپ نے ۶ اکتوبر کو ایک رسالہ تحفۃ الندوۃ کے نام سے شائع کر کے ایک بار پھر علماء ہند پر اتمام حجت کیا۔اس رسالہ میں آپ نے پھر اس آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا الآية پر بڑی تفصیل اور دلائل قویہ سے روشنی ڈالی اور قرآن کریم کی دوسری آیات سے اسے واضح کیا اور ناقابل شکست دلیل صداقت ٹھہرایا۔رسالہ قطع الوتین جو حافظ صاحب نے شائع کرایا تھا اس پر معقول تنقید کر کے اس کا جواب بھی تحفہ الندوہ میں اصولی طور پر دیا گیا کہ یہ ثابت کرنا مدعی کا کام ہے کہ وہ لوگ جن کو پیش کیا گیا ہے کہ ۲۳ برس تک یہ دعوی کر کے زندہ رہے انہوں نے اپنے الہامات شائع کئے ہیں تو وہ کہاں ہیں اور ان کے ماننے والے اس وقت دنیا میں کہیں ہیں اور کیا ان میں ایسے لوگ تو نہیں کہ تو بہ کر کے اپنی دعاوی چھوڑ بیٹھے کیوں کہ وہ اس معیار سے باہر ہو گئے؟؟ نیز یہ بھی فرمایا کہ مجھے امرتسر جانے کی ضرورت نہیں میرے لئے واقعات صحیحہ اور قرآن کریم کا فیصلہ کافی ہے۔حافظ صاحب ندوۃ العلماء کے چند مولوی لے کر آ جاویں جو طالب حق ہو کر آئیں میں انہیں زبانی تبلیغ کرنے کو تیار ہوں میں یہ رسالہ تحفہ الندوہ شائع کرتا ہوں اور ندوۃ العلماء کے مولویوں کے پاس بھی بھیجتا ہوں اس طرح پر ان کو تبلیغ ہو جائے گی اور ان میں سے اگر کوئی طالب حق ہو تو وہ قادیان آجائے میں اپنے دعوی کی وضاحت کرنے کو تیار ہوں۔یہ رسالہ لکھ کر آپ نے حق تبلیغ ادا کر دیا اور ندوۃ العلماء کے جلسہ پر آپ نے ایک وفد تجویز فرمایا جو رسالہ تحفتہ الندوہ کو جلسہ پر تقسیم کرے اور علماء ندوۃ سے حافظ محمد یوسف کے اعلان کے مطابق مطالبہ کرے۔اس وفد کو آپ نے رسل مسیح موعود قراردیا۔یہ وفد حسب ذیل اصحاب پر مشتمل تھا۔(۱) حضرت مولوی سید محمد احسن امروہی (صدر) (۲) مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب رض الحاقة: ۴۵