حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 250
حیات احمد ۲۵۰ جلد پنجم حصہ دوم کے لئے منتخب کئے گئے ہیں یا ندوہ نے ان کو کوئی اجازت اس موقع پر ایسا فیصلہ کرنے کی نہیں دی ؟ امید ہے کہ آپ اصل معاملات سے اطلاع دیں گے اور ان ریزولیوشنر کی نقل بھی بھیج دیں گے جو اس کے متعلق ندوہ نے پاس کئے ہیں۔خاکسار مع ایک جماعت علماء کے آج ۱۰ بجے امرتسر پہنچ گیا ہے اور ندوہ کے اجلاس کے اختتام تک یہاں قیام کرے گا جواب آج ہی ملنا چاہیے۔خاکسار۔سید محمد احسن امروہی ۹ را کتوبر ۱۹۰۲ء ۱۰ بجے دن ( دوسراخط حافظ محمد یوسف کے نام ) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى حافظ محمد یوسف صاحب السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى مَا اسْتَكْبَرَ وَ مَا أَبَی۔آپ کا ایک اشتہار بغرض فیصلہ بتقریب جلسہ ندوۃ العلماء شائع ہوا اور ہمیں ملا ہے۔اس اشتہار کے موافق خاکسار مع ایک جماعت علماء کے اس موقع پر محض اللہ تعالیٰ کے لئے ایک ضروری امر کے لئے یہاں امرتسر آ گیا ہے اسی لئے خط مختصراً بصیغہ رجسٹری آپ کو بھیجا جاتا ہے کہ آپ بواپسی ڈاک اطلاع دیں کہ ندوۃ العلماء کے کون کون سے عالم اس فیصلہ کے لئے آپ نے منتخب کئے ہیں تا کہ ضروری شرائط کے تصفیہ کے بعد اصل مضمون کے متعلق فیصلہ ہو جائے اور اپنے اشتہار کی صداقت کے لئے ندوۃ العلماء کی اس چٹھی یا ریزولیوشن کی نقل بھی ارسال کریں جس کی رو سے آپ نے اس جلسہ پر فیصلہ کے لئے ہمیں مدعو کیا ہے۔کیوں کہ ندوہ کی اجازت اور منظوری بغیر ہمیں امید نہیں کہ آپ نے ایسا کیا ہو اور اس لئے ندوۃ العلماء کو ہم نے آپ کے اشتہار کے موافق اپنا مخاطب سمجھا ہے۔اس خط کا جواب آپ میاں حبیب اللہ صاحب ، صاحب مختار عدالت کے مکان کٹرہ جیمل سنگھ امرتسر کے پتہ پر بذریعہ ڈاک رجسٹری بواپسی بھیج دیں۔میں ندوۃ العلماء کے جلسہ کے اختتام تک ٹھہروں گا۔فقط سید محمد احسن امروہوی ۹ را کتوبر ۱۹۰۲ء