حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 247
حیات احمد ۲۴۷ جلد پنجم حصہ دوم اپنے کام کو پورا نہ کر لے۔اور اگر انسانوں میں سے ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو تو خدا کے فرشتے میرے ساتھ ہوں گے اور اگر تم گواہی کو چھپاؤ تو قریب ہے کہ پتھر میرے لئے گواہی دیں۔پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو کا ذبوں کے اور منہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔میں اس زندگی پر لعنت بھیجتا ہوں جو جھوٹ اور افترا کے ساتھ ہو اور نیز اس حالت پر بھی کہ مخلوق سے ڈر کر خالق کے امر سے کنارہ کشی کی جائے۔وہ خدمت جو عین وقت پر خداوند قدیر نے میرے سپرد کی ہے اور اسی کے لئے مجھے پیدا کیا ہے ہرگز ممکن نہیں کہ میں اس میں سستی کروں۔“ اربعین نمبر ۳ روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۴۰۰،۳۹۹) قطع الوتين الغرض حافظ محمد یوسف کے اصرار پر حضرت اقدس نے ہندوستان و پنجاب کے ان مشہور و معروف علماء پر اتمام حجت کے لئے یہ انعامی اعلان شائع کیا۔امرتسر میں ایک حکیم محمد دین صاحب تھے جو مولوی ثناء اللہ صاحب کے پروپیگنڈا کرنے والے تھے خود مولوی صاحب اور دوسرے علماء کو تو ہمت نہ ہوئی کہ اس میدان میں آتے حکیم محمد دین سے ایک اعلان قطع الوتین کے عنوان سے شائع کرا دیا اور اتفاق سے امرتسر ہی میں 9 اکتو بر ۱۹۰۲ء میں ندوۃ العلماء کا سالانہ جلسہ قرار پایا۔اس موقع کو غنیمت سمجھ کر حافظ صاحب کے ایماء پر یہ اشتہار دیا گیا کہ مرزا صاحب اس جلسہ پر آکران علماء ہندوستان سے یہ بحث کر لیں کہ قطع الوتین میں جن مدعیان کا ذب کی عمر اور دعولی معیار دے کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ انہوں نے ۲۳ برس سے زیادہ عمر پائی ہے اس لئے یہ دلیل قطع الوتین صحیح نہیں۔ان نادانوں نے یہ غور تو کیا نہیں کہ اس کی زد قرآن کریم اور حضرت نبی کریم ﷺ کی دلیل صداقت پر پڑتی ہے۔