حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 230
حیات احمد ایک قابل غور نکتہ ۲۳۰ جلد پنجم حصہ دوم طاعون کے متعلق جو الہامات ہوئے ہیں وہ اپنے رنگ میں روز روشن کی طرح نمایاں ہوئے۔الدار کے متعلق جو الہامات ہوئے ان میں دو باتیں نہایت عجیب ہیں اول الدار میں رہنے والوں کی حفاظت اس میں۔ایک استثنی بھی تھا اور پھر خود حضرت اقدس کی لازماً حفاظت اور اس کی صراحت ایسے طور پر ہوئی کہ آپ نے فرمایا اگر میرے جسم میں طاعون کے جراثیم داخل ہو جائیں تو وہ خود ہی ہلاک ہو جائیں گے۔یہ اس یقین کامل کا مظاہرہ تھا جو حضرت اقدس کو اللہ تعالیٰ کی اس وحی پر تھا جو آپ پر نازل ہوتی تھی پھر اس نشان کی اور وسعت ہوئی اور پھر کشتی نوح کے ذریعہ جو تعلیم آپ نے دی اس پر ہر عمل کرنے والے کو آپ نے الدار میں ہی داخل قرار دیا۔کشتی نوح کی اشاعت اس وحی الہی میں جو وقتا فوقتا آپ پر نازل ہوئی اور جس کا سلسلہ آپ کی ماموریت سے بھی پہلے زمانہ سے شروع تھا آپ کا یہ الہام بھی تھا۔وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا تو ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا۔جب آپ مامور ہوئے اور سلسلہ بیعت کا آغاز ہوا تب اس سلسلہ بیعت کو کبھی کشتی نوح قرار دیا گیا اور آپ کے مکالمات الہیہ میں آپ کا نام نوح بھی آیا۔جب طاعون کا حملہ شدید ہوا اور آپ کو الدار کی حفاظت کے مبشرات ملے تو اکثر احباب حضرت اقدس کے الدار میں آپ کے منشاء اور اجازت سے سکونت پذیر ہو گئے اور جائے تنگ است و مردمان بسیار کا نمونہ ہو گیا۔تحديث بالنعمة مکان کی وسعت صرف موجودہ مکان کے مغرب کی طرف ہی ہو سکتی تھی اور یہ جگہ مرزا غلام حیدر مرحوم کی حویلی تھی اس کے ملحق ایک حصہ ڈپٹی شنکر داس کے قبضہ میں تھا اور مرزا غلام حیدر صاحب کی