حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 231 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 231

حیات احمد ۲۳۱ جلد پنجم حصہ دوم حویلی شرکاء کے قبضہ میں تھی۔راقم الحروف اس کوشش میں تھا کہ حضرت کے قرب میں کوئی ٹکڑا زمین مل جائے اللہ کے فضل نے میری رہنمائی فرمائی اور ڈپٹی شنکر داس کے قبضہ والا مکان میں نے خرید لیا اور حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا کہ اس کا ۳ را حصہ سلسلہ کے لئے دے دو اور قیمت لے لو۔خاکسار کے لئے اس سے بڑھ کر کیا سعادت ہو سکتی تھی چنانچہ میں نے ۱/۳ حصہ حضرت اقدس کے نام پر ھبہ کر دیا اور اس حقیر قربانی نے مجھے بہت بڑا مکان اور زمین عطا فرمائی۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ اب مرزا غلام حید ر صاحب والی حویلی کا مسئلہ رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ شرف بھی مجھے عطا فر مایا کہ مرزا نظام الدین صاحب اور ان کے برادر بزرگ مرزا امام الدین صاحب سے گفتگو کر کے انہیں اس بات پر رضامند کر لیا کہ وہ حضرت اقدس کے حصہ کے ساتھ اپنے حصہ کو بھی حضرت کے ہاتھ فروخت کر دیں چنانچہ وہ اس پر رضامند ہو گئے اور اس طرح پر موجودہ الدار کی توسیع میں اس گنہگار کو اللہ تعالیٰ نے سعادت بخشی ثُمَّ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ جب یہ مسئلہ حل ہو گیا تو حضرت اقدس نے مندرجہ حاشیہ اعلان توسیع مکان کے لئے شائع فرمایا۔کا حاشیہ۔درخواست چندہ برائے توسیع مکان۔چونکہ آئندہ اس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر میں جس میں بعض حصوں میں مرد بھی مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں، سخت سنگی واقع ہے اور آپ لوگ سن چکے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چاردیوار کے اندر ہوں گے حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے اور اب وہ گھر جو غلام حیدر متوفی کا تھا جس میں ہمارا حصہ ہے اس کی نسبت ہمارے شریک راضی ہو گئے ہیں کہ ہمارا حصہ دیں اور قیمت پر باقی حصہ بھی دے دیں۔میری دانست میں یہ حویلی جو ہماری حویلی کا ایک جزو ہو سکتی ہے دو ہزار تک تیار ہوسکتی ہے۔چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الہی کی خوشخبری کی رو سے اس طوفان طاعون میں بطور کشتی کے ہوگا۔نہ معلوم کس کس کو اس کی بشارت کے وعدہ سے حصہ ملے گا اس لئے یہ کام بہت جلدی کا ہے۔خدا پر بھروسہ کر کے جو خالق اور رازق ہے اور اعمال صالحہ کو دیکھتا ہے کوشش کرنی چاہیے۔میں نے بھی دیکھا کہ یہ ہمارا گھر بطور کشتی کے تو ہے مگر آئندہ اس کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے نہ عورت کی اس لئے توسیع کی ضرورت پڑی۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ المشتهر مرزا غلام احمد قادیانی (کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۶ - مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۷۴)