حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 229 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 229

حیات احمد ۲۲۹ جلد پنجم حصہ دوم وہ رہتے تھے طاعون شدت سے پھیل رہا تھا ان کو بھی شدید تپ ہو گیا اور انہوں نے اس حالت میں قیاس کیا کہ ان کو طاعون ہو گئی ہے اور مکرم مفتی محمد صادق صاحب کو بلا کر اپنی وصیت لکھوا دی اور انہیں یہ خیال ہوا کہ اگر چہ الدار کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے مگر اس میں إِلَّا الَّذِينَ عَلَوا بِاسْتِكْبَارِ کے الفاظ میں استثنیٰ بھی ہے ممکن ہے میری کسی کمزوری کے نتیجہ میں یہ طاعون ہوگئی ہے حضرت اقدس نے حقیقۃ الوحی کے نشان ۱۰۳ میں اس کا ذکر یوں فرمایا ہے۔ایک سوتین نشان۔ایک دفعہ طاعون کے زور کے دنوں میں جب قادیان میں بھی طاعون تھی مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو سخت بخار ہو گیا اور اُن کو ظن غالب ہو گیا کہ یہ طاعون ہے اور انہوں نے مرنے والوں کی طرح وصیت کر دی اور مفتی محمد صادق صاحب کو سب کچھ سمجھا دیا اور وہ میرے گھر کے ایک حصہ میں رہتے تھے جس گھر کی نسبت خدا تعالیٰ کا یہ الہام ہے۔اِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مِنْ فی الدَّارِ۔تب میں اُن کی عیادت کے لئے گیا اور اُن کو پریشان اور گھبراہٹ میں پاکر میں نے ان کو کہا کہ اگر آپ کو طاعون ہو گئی ہے تو میں جھوٹا ہوں اور پھر میرا دعویٰ الہام غلط ہے یہ کہ کر میں نے ان کی نبض پر ہاتھ لگایا۔یہ عجیب نمونه قدرت الہی دیکھا کہ ہاتھ لگانے کے ساتھ ہی ایسا بدن سرد پایا کہ تپ کا نام و نشان نہ تھا۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۶۵) حضرت مفتی محمد صادق صاحب اپنا چشم دید واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس سے قبل مولوی محمد علی صاحب کے جسم پر ہاتھ لگایا تو وہ آگ کی طرح پھنک رہا تھا۔ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے جو حضرت صاحب تشریف لائے ان کے ہاتھ لگاتے ہی نہ معلوم وہ بخار کدھر چلا گیا۔یہ وہ عجائبات قدرت ہیں جن سے انسان کا ایمان تازہ ہوتا ہے۔66