حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 226 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 226

حیات احمد ۲۲۶ جلد پنجم حصہ دوم قادیان میں چند اور وارداتیں ہوئیں جو طاعون سے نہیں ہوئی تھیں پیسہ اخبار کے دروغ باف نامہ نگار نے ان کو طاعونی اموات قرار دیا اگر چہ وہ اموات طاعونی بھی ہوتیں تو بھی پیشگوئی کے خلاف نہ تھی مگر وہ تو سرے سے طاعونی اموات تھیں ہی نہیں اس لئے الحکم میں دستاویزی ثبوت سے اس کا جواب دیا۔پیسہ اخبار نے چند آدمیوں کے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ وہ طاعون سے مرے ہیں۔موت اور پیدائش کا رجسٹر قادیان میں رہتا تھا جو نمبردار کے زیر نگرانی رہتا اور نمبر دار مرزا نظام الدین حضرت اقدس اور سلسلہ کا دشمن تھا اس میں ان اموات کی یادداشت ہے میں ان مضامین کی جو اس سلسلہ میں مجھے لکھنے پڑے تفصیل چھوڑ کر صرف خلاصہ ان اموات کا ذکر کرتا ہوں جن کو پیسہ اخبار اور وطن طاعونی قرار دیتے ہیں اور ان کے اسباب مرگ اور تھے جو مرزا نظام الدین صاحب نمبردار مخالف سلسلہ نے درج کتاب اموات کر دیئے۔ہم کو پیسہ اخبار کے ایڈیٹر پر سخت افسوس ہے کہ اس نے اپنے ایک مختصر سے نوٹ میں کئی جھوٹ پھر دلآ زار جھوٹ بولے ہیں حالانکہ کئی سال کے تجربہ اخبار نویسی کے رو سے چاہیے تھا کہ وہ اس خبر کی تصدیق کے لئے بہترین ذرائع کو اختیار کرتے مگر انہوں نے ایک غور کن دوراندیش ایڈیٹر کے منصب کے خلاف جلد بازی اور عجلت سے کام لے کر ایک بیہودہ امر کو اپنے اخبار میں شائع کر دیا جو اس کی خفت کا موجب ہوا۔پیسہ اخبار اگر محض تعصب اور بے جا عداوت سے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی عداوت نہیں کرتا تو ہمیں اس سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اور امید کرنی چاہیے کہ وہ اپنے نوٹ کی بہت جلد تردید کر دے گا۔لیکن اگر اس نے بے جا حجت اور خاموشی سے کام لیا تو وہ اپنے فرض منصبی کے حدود سے ہی نکلنے والا نہ ٹھہرے گا بلکہ ہماراحق ہو گا کہ ہم کہیں کہ اس نے خدا ترسی سے کام نہیں لیا اب ہم ذیل میں پیسہ اخبار کے ان خطر ناک جھوٹوں کو سلسلہ وار لکھتے ہیں۔" پہلا جھوٹ۔مولا چوکیدار کی وفات کا باعث طاعون قرار دینا ہے حالانکہ ہم نے گزشتہ اشاعت میں سرکاری کتاب کے حوالہ سے بتایا ہے کہ وہ طاعون سے نہیں مرا چنا نچہ ہم نے دکھایا ہے کہ رجسٹراموات و پیدائش قادیان نمبر۵۳ پر ۲۰ فروری ۱۹۰۲ء میں اس کی وفات بذریعہ بخار درج ہے۔