حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 227
حیات احمد ۲۲۷ جلد پنجم حصہ دوم شخص ۲۰ فروری ۱۹۰۲ء کو مرا ہے اگر وہ طاعون سے اس وقت مرا تھا اور رجسٹر میں غلط باعث بخار درج ہوا ہے تو پھر پیسہ اخبار یا وہ دروغ گونامہ نگار جس نے پیسہ اخبار کو ایسی جھوٹی خبر دی ہے گویا قادیان کے نمبردار اور بٹالہ کے ڈپٹی انسپکٹر تحصیلدار اور ضلع گورداسپور کے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر پر الزام لگاتا ہے کہ انہوں نے ایک واردات کو خفی کیا اور سرکاری طور پر اس کی اطلاع نہیں دی گئی پیسہ اخبار بہت جلد اس شخص کا نام ظاہر کرے جس نے اس قسم کا تشویش افزاخط لکھا ہے تا کہ ایسی جھوٹی خبریں شائع کرانے کی وجہ سے ہم افسران مجاز کو اس کی بابت اطلاع دے سکیں بہر حال یہ افسران مجاز کا فرض ہے کہ ایسے شخص کے متعلق مناسب انتظام کریں۔دوسرا جھوٹ۔نتھو چوکیدار کی وفات کے متعلق ہے یہ شخص ۱۸ اپریل ۱۹۰۲ء کو مرا ہے اور نمبر ۶۹ کتاب مذکور میں باعث موت بخار درج ہے۔تیسرا جھوٹ۔مولا کی بیوی۔یہ بہت ہی خطر ناک جھوٹ ہے۔مولیٰ کی بیوی اس وقت تک قادیان میں زندہ موجود ہے ایک زندہ شخص کی نسبت اس کے مرنے اور طاعون سے مرنے کی متوحش خبر شائع کرنا پیسہ اخبار کے ایڈیٹر کو خوب معلوم ہے قانونی جرم ہے جس سے اس عورت کے رشتہ دار چارہ جوئی کر سکتے ہیں کیا پیسہ اخبار کا اپنا فرض نہیں ہے کہ وہ ایسے غلط بیان شخص پر ہزار بار نفرین کرے۔چوتھا جھوٹ۔مولا کی لڑکی کا بھی طاعون سے مرنا ظاہر کیا گیا ہے بحالیکہ ساری عمر میں مولیٰ کے ہاں لڑکی ہوئی ہی نہیں پھر اس خانہ ساز واردات کی بابت ہم بجز اس کے کیا کہیں لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ - پانچواں جھوٹ۔نتھو کی بیوی کا مرنا بھی طاعون سے ظاہر کیا گیا بحالیکہ یہ بیچاری ۲۵ دسمبر ۱۹۰۱ء کو بعارضہ کھانسی و بخار سے فوت ہوئی ہے۔چھٹا جھوٹ۔صدر و ولد بھا گا بافندہ۔قادیان میں اس نام کا کوئی شخص ابھی تک ہم کو معلوم نہیں ہوا اور نہ رجسٹر پیدائش اموات میں درج ہے۔بھاگا ایک بافندہ ہے مگر اس کا کوئی لڑکا اس نام کا نہیں ہے اور نہ فوت ہوا ہے۔