حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 225
حیات احمد ۲۲۵ جلد پنجم حصہ دوم کہ بیشک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنے نفسوں کی حالت نہ بدلیں اور خدا تعالیٰ نے قریہ ( یعنی قادیان) کو بچالیا۔اور اؤی کی تشریح میں فرمایا کہ عربی زبان میں اس کے معنے ہیں کسی تباہی اور انتشار سے اپنی پناہ میں لے لینا۔گویا إِنَّهُ اوَى الْقَرْيَةَ سے یہ مراد ہے کہ قادیان میں ایسی طاعون نہیں پڑے گی جسے طاعون جارف ( یعنی جھاڑو دینے والی ) کہتے ہیں جس سے بستیاں تباہ ہو جاتی ہیں اور گھر بے چراغ ہو جاتے ہیں اور لوگ بھاگتے پھرتے اور جان بچاتے پھرتے ہیں پس اگر کوئی ایسی چند وارداتیں ہو بھی جائیں جو انسانی برداشت کے اندر ہوں تو وہ اس الہام کی منافی نہیں بلکہ مطابق ہے کیونکہ اوی کا لفظ اس بات کا متقاضی ہے کہ کسی قدر عذاب کے بعد اللہ تعالیٰ اس قریہ کو اپنی پناہ میں لے لے گا لیکن جو حالت اس وقت پنجاب میں دیہات اور شہروں کی تھی کہ طاعون جھاڑو پھیر رہی تھی اور لوگوں کو سر چھپانے کو جگہ نہ ملتی تھی وہ حالت تباہی کی قادیان پر نہ آئے گی کہ خدا تعالیٰ نے اپنے مامور کی وجہ سے اس بستی کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔غرض یہ پیشگوئی پوری شان سے پوری ہوئی اور حضرت اقدس کے مکان (الدار ) میں کوئی چوہا تک بھی اس میں مبتلا نہ ہوا حالانکہ الدار کے ارد گرد بعض بڑے بڑے مخالف طاعون سے ہلاک ہوئے اور قادیان کی جماعت میں بھی اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کے موافق ہر طرح امن رہا مگر شہر میں بعض وارداتیں ہوئیں جو نا اہلوں کے لئے ٹھوکر کا پتھر ہوئیں۔پیسہ اخبار مجھے افسوس کے ساتھ یہ ذکر کرنا پڑتا ہے کہ پیسہ اخبار نے کسی دشمن سلسلہ کی غیر صبح اطلاع پر اپنے اخبار میں اس پیشگوئی کے خلاف ایک سلسلہ اعتراضات شروع کیا اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم نے اس خاکسار کو تو فیق عطا فرمائی کہ پیسہ اخبار کو منہ توڑ جواب دیا۔پیسہ اخبار کی اس جلد بازی میں اخبار وطن بھی شریک تھا اس لئے میں نے پیسہ اخبار کو ہی مخاطب کیا۔