حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 224 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 224

حیات احمد أُولِي الْأَبْصَارِ،، ۲۲۴ جلد پنجم حصہ دوم (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۸۶ تا ۳۹۲) بالآخر اس الدعا کی اشاعت کے بعد وہ اور اُس کے لڑکے طاعون سے جیسا کہ اس نے چاہا تھا ہلاک ہو گئے۔دافع البلاء کی اشاعت او پر رسالہ دافع البلاء کے حوالہ سے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا ہے جو مخذول چراغ دین جمونی کے حق میں کی گئی تھی۔یہ رسالہ دراصل ۱/۲۳ پریل ۱۹۰۲ ء کو اس وقت شائع کیا گیا جبکہ پنجاب میں شدت سے طاعون پھیلا ہوا تھا اور بعض خاندان پورے کے پورے بعض دیہات میں لقمہ طاعون ہو گئے۔یہ نہایت دلگداز نظارہ تھا باوجود اس کے کہ طاعون کی یہ شدت آپ کی صداقت کا ایک زبر دست نشان تھا تا ہم آپ اپنی کمال رحمت اور شفقت سے مختلف رنگوں میں لوگوں کو اس عذاب سے بچنے کی دعوت دے رہے تھے اور اس سلسلہ میں یہ مختصر سا رسالہ بھی شائع کیا گیا۔اس رسالہ میں آپ نے طاعون سے بچنے کا جسمانی اور روحانی علاج شائع کیا اور لوگوں کو جہاں ایک طرف جسمانی گندگی اور ہر قسم کی نجاست سے بچنے کی تعلیم دی اس کے ساتھ جسمانی پاکیزگی کے علاوہ اندرونی پاکیزگی اور طہارت نفس کی ہدایت فرمائی اور اصلی اور نا قابل خطا علاج یہ قرار دیا کہ انسان اپنے گناہوں اور شرارتوں سے تو بہ کر کے خدا سے صلح کریں اور اس نازک وقت میں جس شخص کو خدا تعالیٰ نے مامور کر کے بھیجا ہے اس کی طرف رجوع کریں اور اس کی دعوت پر لبیک کہیں اور اس کے انکار اور استہزا سے باز رہیں کہ طاعون کے باطنی اسباب میں لوگوں کی حق کی مخالفت اور حد سے بڑھی ہوئی شوخی و شرارت کو بھی دخل ہے۔اسی سلسلہ میں آپ نے اس پیشگوئی کو دوہرایا جو إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ اوَى الْقَرْيَةَ تذکره صفحه ۲۶۱ مطبوعه ۲۰۰۴ء)