حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 213 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 213

حیات احمد ۲۱۳ جلد پنجم حصہ دوم نسبت حضور کے دل میں پیدا ہوئی ہیں دور کروں اور میں آپ کی ناراضگی سے جس کا نتیجہ خدا کا غضب ہے خدا کے امان میں محفوظ رہوں۔میں ایک بار نہیں بلکہ ہزار بار تو بہ کرتا ہوں اور بڑی خوشی سے بلکہ اس بات کو میں اپنے فخر اور صلاح و نجات دارین کا موجب سمجھتا ہوں جس حالت میں کہ میں بقیہ حاشیہ۔کہ بہت سے ایسے مخفی راز ہیں جواب تک دنیا سے مخفی ہیں میرے ہاتھ پر ظاہر ہوں گے لیکن قبل از ظہور یہ تمام دعاوی محض شطحیات اور لغویات سے ہیں ہماری مجلس میں جو علماء فحول اور مفسرین کلام اللہ وکلام الرسول حاضر رہتے ہیں ان کے نزدیک ایسے دعاوی بے ثبوت کیونکر حیزِ قُبُول میں جگہ پکڑ سکتے ہیں (۸) دو جگہ پر آپ نے اشعار اردو و فارسی میں لکھے ہیں وہ سب کے سب خلاف محاورہ ساقط الاوزان ہیں جن میں زحافات اور دیگر نقائص علم عروض وقوافی موجود ہیں اور مضمون بھی ان کا محض خلاف نفس الامر۔پھر اس مجلس علماء فحول میں کیونکر پسند ہو سکتے ہیں (۹) آنحضرت ﷺ کو آپ نے ایک طویل مضمون میں احیاء جسمانی سے مستثنیٰ کر دیا ہے اور حضرت عیسیٰ کو اس کے ساتھ مختص کیا ہے یہ بھی بالکل غلط اور کفر ہے حضرت عیسی میں وہ کون سا احیاء جسمانی تھا جو ہمارے حضرت صلعم میں نہ تھا۔(۱۰) قرآن و انجیل مروجہ کی موافقت کا وہ کون سا راز ہے جو آپ پر منکشف کیا گیا ہے یہ دعویٰ بھی محض بے ثبوت ہے غرض کہ مختصر طور پر آپ کو آپ کی چند اغلاط سے مطلع کیا گیا اور آپ کی خدمت میں پھر مکرر عرض ہے کہ آپ کا یا کسی کا یہ دعویٰ ماموریت یا رسالت کا بغیر صدور امر عالی حضرت اقدس کے ہرگز ہرگز درست نہیں ہو سکتا۔جب تک خود حضرت امام الزمان جَرِيُّ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ آپ کو امر فرما کر مامور به نیابت مقررنہ فرماویں کیوں کہ در صورت موجود ہونے منیب کے کوئی شخص بغیر منیب کے قائم کئے ہوئے خود بخود مامور من اللہ کیونکر ہوسکتا ہے۔کہ چراغ پیش آفتاب قدرے ندارد۔اس پر علاوہ یہ کہ آپ کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایسے مستقل مامور من اللہ ہیں کہ تمام برکات جو مامور من اللہ میں ہوا کرتے ہیں وہ یہ تمام و کمال آپ میں موجود ہیں بھلا اور برکات تو رہنے دیجیے یہاں پر صرف ایک ہی برکت کا ذکر کیا جاتا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے اس زمانہ میں جو قلم کی لڑائی کا زمانہ ہے متعدد کتا بیں زبان عربی فصیح و بلیغ میں متضمن حقائق و معارف قرآنی نظم و نثر میں محرر فرما کر اعجاز بلاغت محمدیہ کی تجدید فرما دی ہے کیوں کہ اس قرن میں صرف قلم کی لڑائی ہے۔اس برکت اعجازی کی سخت ضرورت تھی کہ اس اعجاز محمدی کی بھی تجدید کی جاوے۔اس لئے آپ کوئی ایک ہی کتاب یا رسالہ ہی سہی متحد یانه عربی فصیح و بلیغ میں مع معارف و حقائق قرآنی کے نظم و نثر میںتحریر فرما دیجیے تا کہ ثابت ہو کہ حقائق اور معارف قرآنی جو زبان عربی مبین میں ہیں آپ کو کسی قدر حاصل ہیں مگر جب کہ آپ زبان عربی سے محض نا آشنا ہیں اور نہ بطور ویہی کے آپ کو زبان عربی کی تعلیم ہوئی ہے تو پھر آپ حقائق و معارف قرآنی کیوں کر جان سکتے ہیں پھر آپ کا یہ دعویٰ