حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 214
حیات احمد ۲۱۴ جلد پنجم حصہ دوم منافقانہ طور سے نہیں بلکہ مخلصانہ دل سے پورے صدق اور کامل ایمان کے ساتھ لوگوں کو اپنے اشتہاروں کے ساتھ جناب کی مخالفت سے ڈراتا اور توبہ واستغفار کی طرف ترغیب دیتا تھا تو کیا سب سے پہلے میں ہی اس نمونہ کو اپنے حال پر وارد نہ کروں بلکہ بدرجہ اولی سب سے بڑھ کر کرتا ہوں تا کہ بقیہ حاشیہ۔ماموریت و رسالت جو بغیر صدور امر عالی حضرت اقدس کے آپ نے مستقل طور پر کیا ہے کیسا سرتا پا غلط ہی ہے تکیہ سے بر جائے بزرگان نتواں زو بگذاف مگر اسباب بزرگی ہمہ آماده کنی اور نہیں تو آپ اپنے انہیں رسائل کو عربی فصیح و بلیغ میں قدرے نثر و قدرے نظم تحریر کیجیے تا کہ صرف آپ کی قرآن دانی جو ہر ایک مومن کے لئے ضروری ہے ثابت ہو ورنہ ایسے دعاوی بیہودہ سے تو بہ کیجئے اور جو رسائل آپ نے تحریر فرمائے ہیں وہ تو ہر ایک ادنیٰ خادم ، خدام حضرت اقدس جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ میں سے تحریر کر سکتا ہے چہ جائے اُن خدام کے جو علماء فحول جامع علوم کتاب اللہ وسنت رسول حضرت اقدس کے زیر اقدام پڑے ہوئے ہیں مگر افسوس کہ زبان اردو و فارسی کے اشعار جو آپ نے نمبر سوم میں لکھے ہیں وہ بھی ایسے بے محاورہ و ساقط الاوزان ہیں جن پر اطفال مکتب بھی مضحکہ اڑاتے ہیں اگر چہ بحکم اَلْحَقُّ مُرٌّ کے یہ نصیحت جو بحکم حضرت اقدس کے آپ کو کبھی گئی ہے آپ کو تالا معلوم ہوگی مگر محض نُصْحًا لِلهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ خَالِصًا لِلہ آپ کو کبھی گئی۔واضح ہو کہ آپ کے اشتہاروں سے کسی طرح کی نصرت اس سلسلہ الہیہ کے لئے نہیں ہو سکتی بلکہ ضرر اس کا نفع سے زیادہ متصور ہے۔آپ امتحان کر لیجئے کہ اس اپنی نصرت خیالی سے آپ معطل ہو جاویں اور پھر دیکھیں کہ ترقی اس سلسلہ الہیہ کی کیسے تین طور پر ہوتی ہے اور پھر کسی اپنی نصرت کا بھی تو آپ نے اظہار کیا ہوتا کہ جس کی وجہ سے آپ اپنے تئیں ناصر خیال کر رہے ہیں۔کیا یہی نصرت ہوتی ہے کہ حضرت خاتم النبیین وسید المرسلین صلم کو جن کی شان ہی وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ان کو رت عیسی کی نسبت جن کی شان فقط وَرَسُولاً إِلى بَنی اسراءیل سے ہے اعجاز احیاء جسمانی سے مستی کر دیا مذہب صلیبی اور اسلام میں صلح کرانے کو مستعد ہوئے مشرق النور اور مغرب النور کو ایک کرنا چاہا۔الإسلامُ نُورٌ وَالْكُفْرُ ظلمة میں صلح کرانی چاہی۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ ہم خاتم النبیین وسید المرسلین صلح کو تمام انبیاؤں سے افضل اعتقاد رکھتے ہیں اور اسی مقصد کے لئے ہماری بعثت ہے۔آپ ہماری صلح ایسے لوگوں سے کرانا چاہتے ہیں جو ان کو نعوذ باللہ مفتری اور کذاب اعتقاد کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا ا الانبياء: ١٠٨ النساء : ۱۱۴ ۳ آل عمران: ۵۰ مریم: ۸۹