حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 212 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 212

حیات احمد ۲۱۲ جلد پنجم حصہ دوم تو به نامه بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ یا خلیفۃ اللہ علی الارض السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ حضور کا اشتہارمتعلقہ خاکسار حرف بحرف اس عاجز نے پڑھا اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِهِ وَ عِقَابِہ اس لئے سب سے پہلے تو میں اپنا تو بہ نامہ پیش کرتا ہوں تا کہ میں ان ناراضگیوں کو جو میری بقیہ حاشیہ۔اور پھر رو بر وحضرت اقدس جَرِ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ کے ایسے دعاوی کس قد رموجب گستاخی اور بے ادبی کے ہیں خصوصاً جب کہ یہ لحاظ بھی کیا جاوے کہ آپ کی عبارت سے مفہوم ہوتا ہے کہ آپ رسول اولو العزم بھی ہیں۔حضرت اقدس کے جان نثار میں بائیس سال سے بڑی بڑی تائید میں اور نصر تیں کر رہے ہیں اور مَوَاقِع صَعْبَہ اور سَاعَتِ عُسْرَة میں اُن کا اخلاص اور صدق ظاہر ہو چکا ہے اور آپ نے چند ایام سے بیعت کی ہے اور آپ کو صحبت اقدس سے بھی کچھ فیض یابی حاصل نہیں ہوئی پھر یہ تقدم اور سبقت آپ کو ابھی سے کیونکر حاصل ہوسکتا ہے بقول شخصے کے آمدی و کے پیر شدی۔یہ جملہ خیالات آپ کے حَدِیثُ النَّفْسِ وَالْقَاءَاتِ شَيْطَانِی ہیں ان سے تو بہ کرنی چاہیے حضرت یوسف جو خاندانی نبی ہیں باپ ان کے رسول دادا ان کے رسول کریم ابن الکریم ابن الکریم وہ فرماتے ہیں۔وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِی إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ اور آپ نے تو اب تک کوئی کام اولوالعزمی کا کسی قسم کی اولوالعزمی کا ہو کیا بھی نہیں جو آپ کو مرید اولوالعزم ہی کہا جاوے۔(۵) صفحہ ۲۲ میں آپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ دونوں رجل جن میں سے آپ ایک اپنے تئیں خیال کر رہے ہیں۔افراط و تفریط سے خالی نہیں ہیں اور یہ آپ کا قول ہے کہ صراط مستقیم سے وہ دونوں باہر ہیں۔اگر ایسا کچھ ہے تو صراط مستقیم سے تجاوز کرنے والے ہمارے ناصر کیوں کر ہو سکتے ہیں۔حدیث میں موجود ہے کہ آنحضرت صلحم نے ایک خط مستقیم کھینچ کر اس کے دونوں طرف دیگر خطوط آڑے ٹیڑھے کھینچے اور فرمایا یہ خط مستقیم میر اصراط مستقیم ہے اور باقی خطوط شیطانی راستے ہیں۔پس جو کوئی شخص افراط و تفریط کی راہ میں پڑے گا وہ ہمارا ناصر نائب کیونکر ہو سکتا ہے (۶) صفحہ ا میں آپ لکھتے ہیں کہ کل برکات جو مامور من اللہ کے لئے ہوتے ہیں مجھ کو حاصل ہیں۔آپ سے کون سے برکات کا ظہور ہوا ہے۔خود آپ کی بہتی جس میں آپ سکونت رکھتے ہیں طاعون سے ہلاک ہوگئی۔غرضیکہ ایسے دعاوی بے ثبوت سے جماعت کو سوائے ابتلا کے اور کیا نتیجہ پیدا ہو سکتا ہے (۷) آپ نے یہ بھی لکھا ہے ا يوسف: ۵۴