حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 211
حیات احمد ۲۱۱ جلد پنجم حصہ دوم ہلاکت سے بچ جاوے۔فاضل امروہی نے تعمیل ارشاد کی اس وقت چراغ دین کے نفس میں کچھ صلاحیت پیدا ہوئی اور حضرت اقدس کے اعلان نے اس کے حس ملامت کو بیدار کیا اور اس نے ۲۸ /۱اپریل ۱۹۰۲ء کو حسب ذیل تو بہ نامہ حضرت اقدس کے حضور لکھا۔بقیہ حاشیہ سَابِقُون اَوَّلُون کو ہی فضیلت دیتا ہے۔لہذا آپ کو ان تمام گستاخیوں اور بے ادبیوں سے ایک تو بہ نامہ شائع کرنا ضروری ہے اور حضرت اقدس کو آپ کی نسبت اسی اثنائے میں یہ الہام ذیل بھی ہوئے۔اوّل نَزَلَ بِهِ جَمِیز اور دوسرا الهام أُذِيبُ مَنْ يُرِيبُ یہ الہام بڑے مندر ہیں لہذا ضرور بالضرور آپ ایک تو بہ نامہ بھیج دیو ہیں۔ایسا نہ ہو کہ آپ کے تمام اعمال حبط ہو جاویں دیکھو اللہ تعالیٰ آداب الرسول کی نسبت ارشاد فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالَكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ بعض اغلاط مندرجہ سے آپ کو متنبہ کیا جاتا ہے اول جو مضمون آپ نے حاشیہ صفحہ ۲۳ میں لکھا ہے کہ مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان صلح اور موافقت پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں واسطہ اور درمیانی مامور کیا گیا ہوں آخر تک یہ کل مضمون غلط ہے حق اور باطل میں کیسے صلح نور اور ظلمت میں کیسا اتفاق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا اللل کے مضمون صلح کا شعر ہے اس امرکو کہ عیسائی بھی کچھ حق پر ہوں اور یا کچھ صادق ہوں۔حالانکہ محض کاذب ہیں بغیر خالص اسلام قبول کرنے کے ہماری اور ان کی کوئی صلح نہیں ہو سکتی وہ وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصْرَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِنتَهُمْ سے ہمارا فرض منصب يَكْسِرُ الصَّليب ہے نہ يَجْرُ الصَّليب مذہب صلیبی اور اسلام میں صلح کیونکر ہو سکتی ہے۔دوم - انبیاء و مرسلین کی رسالت و نبوت کو آپ نے ایک حالت میں محض دعویٰ قرار دیا ہے حتی کہ آنحضرت صلعم کی نبوت کو بھی محض دعوی ہی تحریر کیا یہ حض غلط بلکہ کفر ہے۔آنحضرت صلعم کی حقیت رسالت پر ہزاروں شواہد و براہین ہر آن اور ہر وقت میں موجودرہے۔مکذبین کے پاس کوئی دلیل و برہان نہیں ہے اسی لئے قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُم صدِقِینَ کے ان کو فرمایا گیا اس احمد کے غلام کے لئے تو صد ہانشان اور خوارق ابتدائے بعثت سے ہر وقت میں موجود ہیں چہ جائیکہ وہ خاتم النبیین صلحم صفحہ ۲۳۔(۳) میں آپ نے نشان نمائی کا دعویٰ بڑے زور سے کیا ہے حالانکہ ابھی تک کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ یے دعاوی بیجا سے تائب ہونا چاہیے (۴) صفحہ۲۱ میں تعداد انبیاء بنی اسرائیل کو اپنے رسول اور نبی ہونے کے لئے دلیل گردانا ہے اس دلیل سے کسی کی رسالت اور نبوت کیا ثابت ہوسکتی ہے كَلَّا وَ حَاشَا۔الحجرات : ۳۲ ۲ یونس: ۳۳ البقرة : ١٢١ البقرة : ١١٢ الصف :