حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 157 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 157

حیات احمد ۱۵۷ جلد پنجم حصہ دوم محبت ہے میں نے چار پانچ یوم کا عرصہ ہوا ہے کہ جناب کو خواب میں دیکھا ہے آپ نے مجھے مبارکباد فرمائی ہے اور کچھ شیرینی بھی عنایت کی ہے اور اس وقت میرے دل میں دو باتیں تھیں جن کو آپ نے بیان کر دیا ہے اور اسی خواب کے عالم میں میں یہ کہتا تھا کہ آپ کے کشف کا تو میں قائل ہو گیا ہوں واللہ اعلم بالصواب۔بعض باتوں کی سمجھ بھی نہیں آتی ہے اس واسطے میرا خیال ابھی تک جناب کی نسبت یک رُخہ نہیں ہے گو آپ کے صلاح و تورع کا میں قائل ہوں۔میں نے اگلے روز آپ کی کتاب سرمہ چشم آریہ کی ابتدا میں چند اشعار فارسی اور چندار دو پڑھے ہیں اور وہ پڑھ کر مجھے رونا آتا تھا اور کہتا تھا کہ کذابوں کے کلام میں کبھی بھی ایسا در دنہیں ہوتا۔کل میرے عزیز دوست میاں شہاب الدین طالب علم کے ذریعہ سے مجھے ایک خط رجسٹری شدہ جناب مولوی عبد الکریم صاحب کی طرف سے ملا جس میں پیر صاحب گولڑی کی سیف چشتیائی کی نسبت ذکر تھا۔میاں شہاب الدین کو خاکسار نے بھی اس امر کی اطلاع دی تھی کہ پیر صاحب کی کتاب میں اکثر حصہ مولوی محمد حسن صاحب مرحوم کے اُن نوٹوں کا ہے جو مرحوم نے کتاب اعجاز المسیح اور شمس بازغہ کے حواشی پر اپنے خیالات لکھے تھے وہ دونوں کتابیں پیر صاحب نے مجھ سے منگوائی تھیں اور اب واپس آ گئی ہیں۔مقابلہ کرنے سے وہ نوٹ باصلہ درج کتاب پائے گئے یہ ایک نہایت سارقانہ کاروائی ہے کہ ایک فوت شدہ شخص کے خیالات لکھ کر اپنی طرف منسوب کر لئے اور اس کا نام تک نہ لیا اور طرفہ یہ کہ بعض وہ عیوب جو آپ کی کلام کی نسبت وہ پکڑتے ہیں پیر صاحب کی کتاب میں خود اس کی نظیریں موجود ہیں۔وہ دونوں کتابیں چونکہ مولوی محمد حسن صاحب کے باپ کی تحویل میں ہیں اس واسطے جناب کی خدمت میں وہ کتابیں بھیجنا مشکل ہے کیونکہ ان کا خیال آپ کے خلاف میں ہے اور وہ کبھی بھی اس امر کی اجازت نہیں دے سکتے ہاں یہ ہو سکے گا کہ ان نوٹوں کو بجنسہ نقل کر کے آپ کے